صابر اقبال کا شمار اُس پود میں ہوتا ہے جو ۱۹۸۰؁ سے پہلے اُفق ِادب پر نمودار ہوئی۔غم زندگی اور اُس کے مسائل نے صابر اقبال کو بساط ادب پر کھل کر رقص کرنے سے باز رکھے لیکن شعر گوئی اور اِس کو کسوٹی پر پرکھنے کا ہنر زندگی کے نامساعد حالات میں بھی اپنا جلوہ دیکھائے کہ یہ صابر اقبال کے خمیر میں شامل تھا۔ اِس جلوے کا نظارہ ’’پابجولاں‘‘ میں کیا جاسکتا ہے۔ صابر اقبال کو یہ احساس جاگزیں تھا کہ فن پارے میں جب تک خیال کا بہائو دبیزپردے کے اندر نہیں رہے گا تب تک قاری اور فن پارے کے درمیان کشمکش کی شدّت پیدا نہیں ہوگی۔ جدیدیت جس وقت بام عروج پر تھی اُس وقت صابر اقبال کا ادبی شعور پروان چڑھ رہا تھا جس کے اثرات صابراقبال کی شاعری پرپڑے ہیں لیکن صابر اقبال نے اپنی شاعری میں تجریدی یا علامتی اسلوب کو نہیں اپنایا بلکہ ایک ایسا اسلوب اپنایا جس سے قاری کو مفہوم تک پہنچنے کے لیے تھوڑی بہت کوشش کرنی پڑتی ہے کہ اِس فن پارے کی تہہ میں کس خیال کا کرنٹ بہہ رہا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اُن کے شعر کا ایک ایک لفظ کثیرالمعنی ہوتا ہے اور فن پارے میں شامل الفاظ تخلیق کار کا بہروپ ہو تے ہیں۔اِس لیے لفظوں کی ثقالت ،اُس کے مزاج کی حدّت سے خالق کی داخلی شناوری بڑی آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔شعری مجموعہ ’’پابجولاں‘‘ میں شامل الفاظ کے کشیدسے مفہوم کا جو عرق نکلتاہے اُس کی کثافت(Density) زیادہ ہے۔ اِس سے ذہن کی رسائی اُس جانب ہوتی ہے کہ صابر اقبال نے ایسے شعری ادب کو پروان چڑھایا ہے جہاں کلاسکی شعراء خصوصاً غالب اور اقبال کے لب ولہجے اور اسلوب کی بازیافت ہوتی ہے جس کے باعث شعر کے مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے قرات کو دہرانا لازمی ہو جاتا ہے۔ جن الفاظ و تراکیب سے انہوں نے اپنی شاعری کی عمارت کھڑی کی ہے وہ نئے نہیں ہیں اور نہ ہی اِن کو انہوں نے خلق کیا ہے، لیکن طرز اسلوب اور انداز پیش کش نے اُن میں ترو تازگی کے عنصر کا شامل کیا ہے۔اِس ضمن میں اُن کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
طے ہے صابر اپنا جانا موج دریا کے خلاف
جو سگ ِدانش گزیدہ ہیں رہیں پانی سے دور

جو نظر ہو تہہ نشیں تو کھلے عکس کی حقیقت
کہے آئینہ کہاں کچھ پس پشت بولے پارہ

معاشرہ ہے اجنتا،سبق کلیسائی
لہو فساد فشاں،توڑ کر وضو رکھ دے

چار سو جب جہل بولے،خود کلامی ہے پناہ
 بات کرنے سے ابھر آئے گا دنگل کا مزاج

پدر ابرہیم دیکھو ،دیکھ لو فرزند نوح
پھر کہو نسبت میں رکھنا پیڑ اور پھل کا مزاج

تلاش عشرت دنیا ہو یا تلاش خدا
اسے ہی سہل ہے جس کو جنون ملتا ہے

غضب کا تھا شناور،بوالہوس،لایا نہ خاطر میں
نہیں تو دیدہ تر میں بھنور پوشیدہ رہتا ہے
    اِن اشعار کی روشنی میں اِس نکتے پر آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے کہ صابراقبال کی شاعری دِقت نظری کے مرہوں منت ہے لیکن ایسا نہیں کے انہوں نے سہل ممتنع کی شاعری سے یکسرے ترک تعلق اختیارکیا ہے بلکہ اِس کے شانہ بشانہ انہوں نے ایسے ایسے اشعار اپنی جودت طبع سے قرطاس ادب پر خلق کیے کہ مفہوم کا ہیولا فوراًذہن کے پردے پر ایک پیکر کو تراشتا ہے جوبہت دیر تک حافظے میں محورقص رہتا ہے۔ غزل گوئی کے دوران پیکرتراشی عموماً کبھی علامتی ،کبھی تخیلی،کبھی تمثیلی اور کبھی استعاراتی لبادہ اوڑھ کر سامنے آتی ہے ۔چاہے جس لباس میں یا صورت میں آئے اگرحواس خمسہ Shadکے ہر پہلو اور رنگ کو نمایاں کرلیتا ہے تو محنت اکارت نہیں جاتی ہے ورنہ Hazyتصویر کو کون دیکھنا چاہتا ہے۔؟صابر اقبال نے قرطاس ادب پر جو پیکر تراشا ہے وہ دُھندلا نہیں ہے۔
ادب سے بات کرنی ہوتو آسانی نہیں ہوتی
غزل اتنی مہذب ہے کہ من مانی نہیں ہوتی

ساتھ میں رہتا ہے قاتل اور ہے قاتل کی بات
کانپتا ہے دل زباں پر لاتے لاتے دل کی بات

تجھے حسین کے مسلک کا احترام بھی ہے
یزید وقت سے قائم دعا سلام بھی ہے

بونوں کا حکم تھا کہ نہ ہو سر کوئی بلند
غیرت ہمیں عزیز تھی،ہم سر اٹھا چلے
     ایوان جمہور میں لاوارث دستور کا ذکر،اعمال زندگی کی اہمیت،دلوں کے درمیان دیوار اُٹھنے کاحیف، آس کی مکھی کے بیٹھنے سے زخمِ تمنا کی تازگی کا اندیشہ،حق کی مدافعت،غریب کی ناخوشی کا اظہار،اولاد کی ناخلفی کا فنی اظہار،درد پر پھاہا رکھنے والے آدمی کو نائب اللہ کا خطاب،حقیقی بندگی میں بندہ نوازی کا احساس،مالک کائنات سے توفیق بندگی مانگنا کہ طلب سے لوح دل پر زنگ لگتا ہے کا صوفیانہ خیال،ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر نہیں ہوتا کا شعور،باربار پشت پر وار ہونے سے دوستوں کی منافقت کا ذکر،خیال جب بصیرت کی دھوپ تاپے گی تب سخن وری میں حقیقت کا نورجاگے گاکا تیقن،تعصبات کہیں لہوکے ساون میں چمن کو خاک نہ کردے کاانتباہ،انسیت کی جھوٹی ادا پر کف افسوس،جھوٹی کتھا کا وِرداونچی کرسی والوںکا وطیرہ ہے اور انسانی زندگی میں درپیش مسائل پر اپنے ردعمل کو صابر اقبال نے شعر کے پیمانے میں ڈھالا ہے جس کے باعث اِس مجموعے میں زندگی کی رمک اور دمک ،اِس کے زیر وزبر،اُس کی تلخیاں، اِس کی ہرزہ سرائیاں،سب کچھ سمٹ آئی ہیں نتیجتاً ’’پابجولاں‘‘ عصری زندگی کی حقیقتوں کا تفسیر بن گیا ہے۔
انہیں بھی زباں ہے ملی ہوئی،مری ذات میں بھی ہیں خامیاں
میں جو عیب اوروں کا کھول دوں،کہاں خودرہوں گا لباس میں

ذکرِ ستم گر،جوشِ رقابت،ہجر کی باتیں،وصل کا گپ
عشق کے نام پہ بے کاروں کا کھیل تماشہ جاری ہے

یہ ڈنڈی مار استادوں کی بستی ہے،چلو واپس
یہاں تعلیم کم،سوداگری حد سے زیادہ ہے

دم بخود میں ہوںکھڑا عدل کے دروازے پر
جس کو فریاد سنانی تھی وہ بہرا نکلا
    خارجی اور باطنی حقائق کو پیش کرنا ادب کا وطیرہ رہا ہے۔اس دوران فنی شعور میں جب احساس کا رمز اور فکر کی رعنائی نمو پزیر ہوتی ہے تو اس کی مخصوص فضا قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔بقول علی احمد فاطمی:

’’اردو کی نئی غزل میں اکثر و بیشتر اپنی ذات کی فکر،اپنے وجود اور اس کے بقا و فنا کے سلسلے کہیں فطری،کہیں منطقی اور کہیں فلسفیانہ انداز میں بکھرے ہوئے ہیں۔کہیں کہیں یہ خیال اپنی ذات کے اندرون میں ڈوب جانے پر مجبور کردیتا ہے اور کہیں کہیں احباب کے دھوکے ،انسانیت کے فریب،اپنوں کی بے گانگی غرض کہ انسانی رشتوں کی شکستہ حالی اور اس کے ارد گرد شاعر کو پہنچا دیتی ہے۔‘‘                      ’’نئی صدی میں غزل کے امکانات ‘‘  دربھنگہ ٹائمز  ص:۳۷
     ’’پابجولاں‘‘ میں شامل غزلوں میں مندرجہ بالااقتباس کی خوشبوقاری کے فکر و ذہن کو جہاں سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہیں جمالیاتی حس کو قدرے تسکین بھی پہنچاتی ہے جس کا ماخذیہ ہے۔!
میں اپنے درد کو روحِ غزل میں رکھتا ہوں
وہ کم دماغ مگر ماہیا سمجھتا ہے

مجھے کرتا پابجولاں یہ نہ تھا فلک کو یارا
میں غلام اپنا نکلا مجھے خواہشوں نے مارا

اشعار
۔۔۔۔۔۔
کوئی زمین پہ اترے کوئی بات بنے
ہر ایک شخص ہے اپنے ہی آسمان میں قید

ادب سے بات کرنی ہو تو آسانی نہیں ہوتی
غزل اتنی مہذب ہے کہ من منانی نہیں ہوتی

نوکِ خنجر پر جو منوایا تو کیا بات ہوئی
بات تو جب ہے کہ تو بات سے قائل کردے

کسی بھی حال میں بیچا نہیں ضعیفہ نے
نہ جانے کون سی دولت تھی پاندان میں گم

حق شناسی محال ہے صابرؔ
خود شناسی اگر نہیں ہوتی

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion