جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں

خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں

مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا

مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں

بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے

رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں

جنون میں تھا ابھی جانا، عندلیب کا رمز

بہار ان میں نہیں ہے کہ جو بہار میں ہیں

ہزار شہر میں تھے گرد خیز، گم کردہ

فقیرِ گم شدہ کی پستیٔ مزار میں ہیں

رواں ہیں دیدۂ جاناں کو اشک بہرِ مقام

خلیج آبِ ستادہ کے انحصار میں ہیں

اصول پیش رہا گرچہ کرب شدت تھا

سرشک چشم گریزاں مگر قطار میں ہیں

نم ان کی آنکھ میں ارحم تھا میرے گریہ میں

دھنک کے رنگ سبھی شامل آبشار میں ہیں

کبھی نہیں تھا سروکار روزگار سے ژرفؔ

یہ روزگار کے جھگڑے بھی روزگار میں ہیں

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion