بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی 
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں 
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
آشناؤں سے آشنا کیوں ہوں 
آگہی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
اس قدر غم زدہ رہا ہوں میں 
اب ہنسی تلخ لگ رہی ہے مجھے 
یہ عجب ہے بہت عجب آدر 
ہر خوشی تلخ لگ رہی ہے مجھے

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement