امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی صبح وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر امریکی فوجی کارروائی کی گئی، جس کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔

پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا عبوری مدت کے لیے وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا اور تیل کی پیداوار بحال کی جائے گی۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کے ایلیٹ یونٹ ڈیلٹا فورس نے انجام دی۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا گیا جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد قرار دیے گئے گروہوں سے روابط کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے—الزامات جن کی مادورو ماضی میں تردید کرتے رہے ہیں۔ امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے مبینہ طور پر 2020 میں دائر کیے گئے مقدمے سے ملتی جلتی نئی فردِ جرم کا حوالہ دیا۔

یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا نے کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی تعیناتی اور منشیات اسمگلنگ کے الزام میں متعدد کشتیوں پر حملے شامل ہیں۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement