امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کی اپنی مقررہ ڈیڈ لائن بڑھا کر 6 اپریل کر دی ہے، جس کی وجہ جاری مذاکرات میں پیش رفت بتائی گئی ہے۔

اس فیصلے سے ممکنہ فوجی کارروائی فی الحال مؤخر ہو گئی ہے، جبکہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کے نتائج کا جائزہ لے رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ تاہم کشیدگی بدستور برقرار ہے اور صورتحال تاحال حساس ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement