تازہ ترین
دبئی پاکستانیوں کا "کراچی"
دبئی جو آج چشمِ عالم میں جدیدیت، رفعت اور برق رفتار ترقی کے استعارے کے طور پر ابھرا ہے، کبھی محض ایک گمنام، خاموش اور سادہ سا ماہی گیر گاؤں تھا۔ اس شہرِ طلسمات کی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہی دیتی ہے کہ یہ محض کنکریٹ اور شیشے کی بلند و بالا عمارتوں کا کوئی بے جان مجموعہ نہیں، بلکہ ایک اولوالعزم وژن، پیہم جدوجہد اور بصیرت افروز قیادت کے خوابوں کی وہ تعبیر ہے جس نے ریگزاروں کو گلزاروں میں بدل دیا۔ اگر ہم ماضی کے جھروکوں سے اس خطے کا نظارہ کریں، تو قدیم زمانوں میں یہ خطہ خلیج فارس کے تپتے ہوئے کناروں پر آباد ان چھوٹے قبائل کا مسکن تھا جن کی کائنات سمندر کی لہروں اور صحرا کی وسعتوں تک محدود تھی۔ یہاں کے باسی تپتی دھوپ میں مچھلیوں کے شکار، سمندر کی اتھاہ تہوں سے موتی نکالنے اور نہایت محدود پیمانے پر اونٹوں کے ذریعے تجارت کر کے گزر بسر کرتے تھے۔ اس دور میں زندگی مشقت کا دوسرا نام تھی؛ جہاں میٹھے پانی کی بوند بوند کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی تھی اور شدید گرمی کے تھپیڑے انسانی عزم کا امتحان لیتے تھے۔ مگر ان جفاکش لوگوں نے قناعت اور ہمت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب آل مکتوم خاندان نے اس سر زمین کی باگ ڈور سنبھالی، تو درحقیقت یہی وہ تاریخی موڑ تھا جہاں سے ایک منظم سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی بنیاد پڑی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دبئی کی چھوٹی سی بندرگاہ نے خطے میں اپنی ایک الگ شناخت بنانا شروع کی اور ایران، برصغیر اور قریبی عرب ریاستوں سے آنے والے تاجروں نے اس قصبے کو ایک ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کی حیثیت دے دی۔
وقت کا پہیہ اپنی پوری رفتار سے گھومتا رہا اور دبئی نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ 1930 کی دہائی میں جب مصنوعی موتیوں کی ایجاد نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچائی اور عالمی معاشی کساد بازاری نے دستک دی، تو موتیوں کی تجارت پر انحصار کرنے والی مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ یہ ایک ایسا کڑا وقت تھا جس نے یہاں کے حکمرانوں اور عوام کو نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم، یہی وہ آزمائش تھی جس نے مستقبل کی پائیدار بنیادیں فراہم کیں اور ثابت کیا کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ ارادوں سے بنتی ہیں۔ سن 1966 میں تیل کی دریافت نے اس صحرا کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن یہاں کی قیادت کی عظمت یہ تھی کہ انہوں نے تیل کی دولت کو عارضی تعیش کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے مستقل قومی تعمیرِ نو کے ایک عظیم الشان منصوبے کا ایندھن بنایا۔ شیخ راشد بن سعید آل مکتوم، جنہیں جدید دبئی کا معمار کہا جاتا ہے، وہ ایک ایسے دوراندیش حکمران تھے جنہوں نے اس وقت "دبئی کریک" کی کھدائی اور اسے چوڑا کرنے کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا جب ریاست کے پاس وسائل کی شدید قلت تھی۔ ان کا یہ قول تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ "میرا دادا اونٹ پر سوار تھا، میرا باپ اونٹ پر سوار تھا، میں مرسڈیز چلاتا ہوں، میرا بیٹا لینڈ روور چلائے گا، اس کا بیٹا لینڈ روور چلائے گا، لیکن اس کا بیٹا پھر اونٹ پر سوار ہو گا۔" اس جملے میں پوشیدہ فکر یہ تھی کہ تیل ختم ہو جائے گا، اس لیے معیشت کی بنیادیں تجارت اور سیاحت پر ہونی چاہئیں۔ چنانچہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا، جدید بندرگاہیں تعمیر ہوئیں اور ہوائی اڈوں کی بنیاد رکھی گئی تاکہ دبئی کو دنیا کا گیٹ وے بنایا جا سکے۔
پھر 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام نے دبئی کو وہ سیاسی استحکام اور معاشی پلیٹ فارم مہیا کیا جس نے اسے عالمی نقشے پر ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا۔ بعد ازاں، شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی قیادت میں ترقی کے اس سفر نے وہ جہتیں اختیار کیں جن کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھانے کا ہنر دکھایا۔ جب دنیا کا بلند ترین ٹاور "برج خلیفہ" بنانے کی بات ہوئی یا سمندر کا سینہ چاک کر کے "پام جمیرا" جیسے مصنوعی جزیرے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا گیا، تو ناقدین نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا، مگر آج یہی شاہکار دنیا بھر سے کروڑوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ سیاحت، رئیل اسٹیٹ، مالیاتی خدمات اور ہوابازی جیسے شعبوں میں ایسی بے مثال پیش رفت ہوئی کہ دبئی آج عالمی معیشت کا دھڑکتا ہوا دل بن چکا ہے۔ یہ شہر اب محض ایک تجارتی مرکز نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور مستقبل کے جدید ترین علوم کا گہوارہ بن چکا ہے۔ یہاں کی شاہراہیں، جہاں کبھی اونٹوں کے قافلے گزرتے تھے، آج دنیا کی تیز رفتار ترین گاڑیوں اور جدید میٹرو سسٹم سے آراستہ ہیں۔
کسی زمانے میں کراچی دبئی ہوا کرتا تھا پورے پاکستان کا معاشی حب کراچی۔

Facebook Comments