- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
- Home
- ادبی سرگرمیاں
- پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے زیر اہتمام سالانہ عید ملن تقریب
پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے زیر اہتمام سالانہ عید ملن تقریب
پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ نے 21 مارچ 2026 کو عیدالفطر کے پُرمسرت اور بابرکت موقع کی خوشی میں اپنے سالانہ عید عشائیے کا انعقاد نہایت سادگی سےکیا۔ یہ باوقار تقریب ساؤتھ آسٹریلیا میں منعقد ہوئی، جہاں کمیونٹی کے معزز اراکین، خاندانوں اور احباب کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے نہایت جوش و خروش اور باہمی مسرت کے ساتھ اس تقریب میں حصہ لیا، جس سے عید کی خوشیوں اور اجتماعی ہم آہنگی کی خوبصورت جھلک نمایاں ہوئی۔
تقریب کا آغاز نہایت روح پرور انداز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت ضیاء الحق، ڈپٹی سیکرٹری جنرل پالف کو حاصل ہوئی۔ ان کی خوش الحان تلاوت نے محفل کو ایک روحانی فضا عطا کی اور حاضرین کو عید کے حقیقی پیغام -شکرگزاری، ہمدردی اور اتحاد-کی طرف متوجہ کیا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محسن علی آرزو، سیکریٹری جنرل نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ اپنی شگفتہ بیانی، وقار اور ادبی ذوق کے ساتھ انہوں نے پوری تقریب کو مربوط اور دلکش انداز میں آگے بڑھایا، جس سے حاضرین کی دلچسپی مسلسل برقرار رہی۔انہوں نے علامہ اقبال اشعار بھی حاضرین کی نذر کیے۔
صدر پالف، ڈاکٹر افضل رضوی نے اپنے خطاب میں تمام مہمانوں کو دلی خوش آمدید کہا اور تنظیم کے مقاصد کے فروغ میں کمیونٹی کی مسلسل معاونت اور بھرپور شرکت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالف کا بنیادی مقصد پاکستانی نژاد آسٹریلوی کمیونٹی کے درمیان ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ ڈاکٹرافضل رضوی نے عید کی بنیادی اقدار-اتحاد، سخاوت اور باہمی احترام-پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو ترغیب دی کہ وہ ان اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
-
انگریزی حروفِ تہجی میں سیریل ٹو اور ٹوینٹی ٹو پر آنے والے دونوں حروف بی اور وی الگ الگ تو شاید کسی خاص اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن یہ دونوں مل کر ایک بہت خطرناک لفظ ”بیوی“ بناتے ہیں جی ہاں یہی بیوی دنیا کے تقریباً اسی فی صد مردوں یا شوہروں کی زندگی میں آکر دل دہلا...
-
شاعری شاعرکی جان ہوتی ہے،اور ہر شاعرکا کلام اس کے تخیل کا شاہکار ہوتا ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اپنا جو معافی الضمیر بیان کرتا ہے،یہ اسے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ سننے والا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق غزل و نظم کی تشریح کرتا ہے۔اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کسی ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments