سنتے آئے ہیں

دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں

لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے

تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو

یہ دیواریں

کیسے بلک کے روتی ہیں

کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ

کیسے دہائی دیتی ہے

دروازوں کی بھی

آنکھیں ہوتی ہیں

رستا روکنے والی آنکھیں

بوسیدہ ٹرنکوں میں رکھّی الّم غلّم چیزیں

یک دم کتنی قیمتی ہو جاتی ہیں

چھوٹے چھوٹے طاقوں کی

نصف مربّع فٹ کی وسعت کے آگے

دنیا کتنی چھوٹی لگتی ہے

جن ٹوٹی پھوٹی اینٹوں پر

ننھّے ننھّے کومل پاوٗں

ہنستے کھیلتے جیون کا اظہار کیا کرتے تھے

وہ کچّا پکّا آنگن

پھیل کے نیل گگن جیسا ہو جاتا ہے

گم سم دالانوں کے سنّاٹے بھی

آواز دیا کرتے ہیں

تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion