یہ دور کیا عجیب دور ہے

کہ جس میں دُور دُور تک

ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے

نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی

نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی

نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے اب کوئی

نہ ر سے رات میں چراغ ہی جلا رہے ہیں ہم

نہ ڑ سے ز سے رٌ سے آشنا رہے ہیں ہم

نہ س سے سبق کوئی نہ ش سے کہانیاں

نہ ص صبح ہے کوئی نہ ض ضُو فشانیاں

نہ طائرِ خیال کوئی ط سے نہ ظ سے غرض ہمیں

لگا ہوا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سوچ کا مرض ہمیں

سو ع عشق مر رہا ہے غ غیر کے لئے

فراق ف سےجی اٹھا ہے ق قوم کے لئے

سو ک سے کتاب ہے نہ کاغذی مہک رہی ۔۔۔

سو گ گیت لکھنے والے لوگ سارے چپ ہوئے

تو ل م ن و بھی سفر میں رُک گئے

سو ہ سے ہارنے لگی ہے ہم سے ہی زبان آج

ہماری ی سے یاس بن کے رہ گیا ہے سبز گلستان آج

ے یہ سے کیسا دور ہے ۔۔۔الف نہ ب نہ پ رہے

جو رہ گیا تو اے سے بی سے زی تلک سفر رہا

نہ ایک دو نہ تین چار

یہ کیا ستم ہے میرے یار

میں اپنی سر زمیں کے چاند تاروں کو بتاؤں کیا

میں اپنے پیارے بچوں کو کلاس میں پڑھاؤں کیا

کہ ان کی داستان میں

حیات کے مکان میں

جو اے کو بی کو سی کو سر چڑھا رہے ہیں لوگ

ہمارے دور کے الف کو منہ کے بل گرا رہے ہیں لوگ

سو اِن کے دور میں زبان کی جو بھی آج شکل ہے

نہ اس میں کوئی عشق ہے نہ اس میں کوئی عقل ہے

یہ کمتری ہے سوچ کی

اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بے تُکی سے نقل ہے۔۔۔

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion