وہ رقاصہ ہے

مطربہ ہے

اور بلا کی حسین اور تند خو ہے

اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا

ہنر تو آگیا ہے لیکن

محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا

ابھی اس نے نہیں سیکھا

ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف

مگر وہ نظم کم اور

زائچے کچھ زیادہ ہی بناتی ہے

اسے فطرت کی رنگینی لبھاتی ہے

بدن کی پیاس اس کو بھی لگتی ہے یقینا

وہ ترستی ہے

ترستی ہے وہ لمس کی حدت کو لیکن

اسے دولت سے شہرت سے جو راحت مل رہی ہے

اسے اپنا اثاثہ جان بیٹھی ہے

اسے معلوم ہی کب ہے

حقیقی سرخوشی چاہت کے وجودِ دلربا سے ہے

وفا سے ہے

یہاں جو پیاس ہے

وہ آس ہے

اور اس پیاس کا انساں سے روٹھ جانا

زوالِ آدمیت کے سوا کچھ بھی نہیں

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion