قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، جس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے 12 کارکن شہید ہوئے اور 5 ہزار سے زائد گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پُرامن تھا اور ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا۔

عمر ایوب نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے دور میں پہلے ماڈل ٹاؤن اور پھر 26 نومبر کو قتل عام ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ شہباز شریف نے گولی چلانے کا حکم کیوں دیا؟ اپوزیشن لیڈر نے اسلام آباد میں 26 نومبر کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

  • Integer vitae libero ac risus egestas placerat.
  • Fusce lobortis lorem at ipsum semper sagittis.
  • Cras ornare tristique eros elit nulla nec ante.
  • Ut aliquam sollicitudin iaculis ultricies nulla.
  • Vivamus molestie gravida turpis lobortis lorem.
  • Nam convallis pellentesque nisl commodo nulla.

Finibus Bonorum et Malorum

You Might Also Like

03 Comments

Leave A Comment

Don’t worry ! Your email address will not be published. Required fields are marked (*).

Get Newsletter

Advertisement

Voting Poll (Checkbox)

Voting Poll (Radio)

Readers Opinion