- Islamabad
- 32.7°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں / بدر۔م۔ ژرف
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں
خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں
مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا
مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں
بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے
رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں
جنون میں تھا ابھی جانا، عندلیب کا رمز
بہار ان میں نہیں ہے کہ جو بہار میں ہیں
ہزار شہر میں تھے گرد خیز، گم کردہ
فقیرِ گم شدہ کی پستیٔ مزار میں ہیں
رواں ہیں دیدۂ جاناں کو اشک بہرِ مقام
خلیج آبِ ستادہ کے انحصار میں ہیں
اصول پیش رہا گرچہ کرب شدت تھا
سرشک چشم گریزاں مگر قطار میں ہیں
نم ان کی آنکھ میں ارحم تھا میرے گریہ میں
دھنک کے رنگ سبھی شامل آبشار میں ہیں
کبھی نہیں تھا سروکار روزگار سے ژرفؔ
یہ روزگار کے جھگڑے بھی روزگار میں ہیں
-
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے&... -
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی ت...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments