- Islamabad
- 33.8°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے / ڈاکٹر دلدار احمد علوی
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے
میری مہجوری ءِ پیہم کابھی درماں یا رب
قافلے شوق کے اسرارِ نہاں تک پہنچے
حوصلے نے گل و گلزار کیا صحرا کو
پاؤں ہمت کے سرِ کوہستاں تک پہنچے
مر گئے گھٹ کے دم اپنے ہی نہاں خانے میں
دل کے ارمان بہت کم ہی زباں تک پہنچے
پیار کہتے ہیں جسے نام ہے قربانی کا
وہ تجارت ہے کہ جو سود و زیاں تک پہنچے
اتنا آسان نہ تھا عشق کی منزل کا سفر
زندگی ہم نے لٹائی تو یہاں تک پہنچے
تو نے جو آگ لگائی تھی مرے آنگن میں
اس کے شعلے ہیں جو یہ تیرے مکاں تک پہنچے
میرا کردار بھی ہے گردشِ ایام کے ساتھ
بے سبب نغمے نہیں آہ و فغاں تک پہنچے
زندگی پھونک چکی آتشِ فرقت دلدار
آگے یہ دشمنِ جاں جانے کہاں تک پہنچے
-
شادی نے زندگی کے معمولات کو تھوڑا سا تبدیل تو کردیا تھا لیکن خدا وند کریم نے مجھ پر ایک عنایت ضرور کی تھی کہ اہلیہ اکنامکس میں ایم اے ہونے کے باوجود شعر و ادب سے زیادہ منسلک تھیں۔ اور یہ امر میرے لئے خوش کن تھا۔ شاید اس لئے بھی کہ اکثر شاعروں کی بیویاں عموما شاعری کو اپنا ر...
-
وہ رقاصہ ہے
مطربہ ہے
اور بلا کی حسین اور تند خو ہے
اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا
ہنر تو آگیا ہے لیکن
محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا
ابھی اس نے نہیں سیکھا
ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف
مگر وہ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments