کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہوگئے۔ فرار کی کوشش کے دوران قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک قیدی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے، جبکہ ایف سی کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

زلزلے کے باعث قیدیوں کو بیرکس سے عارضی طور پر باہر نکالا گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھا کر قیدیوں نے فرار کی کوشش کی۔ اب تک 80 قیدیوں کو مختلف علاقوں سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیرِ جیل سندھ، علی حسن زرداری نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور علاقے کو مکمل طور پر گھیرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرار ہونے والے قیدیوں کو ہر صورت گرفتار کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈی آئی جی جیل حسن سہتو اور ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی نے بتایا کہ دوبارہ گرفتار کیے گئے قیدیوں کو فی الحال سکھن تھانے کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement