تازہ ترین
اشرف شاد کا افسانوی مجموعہ "اللہ میاں کے گھر" سے متعلق محمد علی بخاری کا طنز و مزاح سے بھرپور تبصرہ
میں روایتی طور پر ایک بیک بنچر ہوں- عباس بھائی نے مجھے حکم دیا کہ میں نے شاد صاحب کی کتاب پہ ضرور لکھنا ہے فضول لکھنے کی مکمل ذمہ داری میری ہے
چوہدری میرا ایک بچپن کا دوست ہے - میں اسے پیار سے ‘“ مک” ایم ائی سی کہتا ہوں- چوہدری کو شک ہے کہ میں نے موبائل میں ایم ائی سی کے اگے ای یا وائے لکھا ہوا ہے- اگر آپ کا ذہن غلط سمت میں پرواز کر رہا ہے تو ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے-آج میں نے چوہدری کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ وہ شاد صاحب کی کتاب پر مضمون پڑھنے جا رہا ہے وہیں مل لیتے ہیں میں نے کہا چوہدری" شاد صاحب کراچی کے اردو سپیکنگ دانشور اور تو چیچوں کی ملیاں کا نان سپیکنگ دانش وڑ- چوہدری بولا ' تم شاہنے ہم سے جلتے ہو- سن شاہنے' شاد بھرا میرا اس وقت کا گوڑا یار بیلی ہے جب میں کراچی یونیورسٹی کی کنٹین چلاتا تھا - شاد بھائی نے آج بھی میرا ممنون حسین بننا نہیں چھوڑا کیوں کہ وہ میری کنٹین سے بھابھی یاسمین کو ادھار سموسے کھلاتے رہے ہیں-
میں اور چوہدری باہر گاڑی میں بیٹھے چولیں مار رہے تھے کہ اتنے میں بیگم چوہدری کا فون آگیا- اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی- چوہدری کہنے لگا' میرا یہ مضمون پڑھ دینا اور شاد بھرا سے نہ آنے کی معذرت کر لینا
چوہدری کا مضمون
میں قران کا طالب علم ہوں اس لیے سمجھتا ہوں کہ رگ وید سے لے کر قران تک الہامی کتاب عام آدمی کی دانائی کے حساب سے اتاری گئی ہے اس لیے ہر وہ تحریر یا شعر جو عام آدمی کی دانائی میں جذب ہو جائے ایک آفاقی تخلیق ہے- شاد صاحب کے تمام ناول اور افسانے اس بینچ مارک پر پورے اترتے ہیں شاد صاحب نے عام آدمی کی زبان میں عام آدمی کے لیے عام آدمی کی دانائی کے حساب سے لکھا ہے-
جج صاحب کے ناول میں کیوبن سگار بنانے کا طریقہ پڑھنے کے بعد "اللہ میاں کے گھر" کی کتاب دیکھتے ہوئے مجھے خمار کا یہ شعر یاد آ گیا-
قیامت یقینا قریب آگئی ہے
خمار/شاد اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں
مگر "امانت" کا اخری جملہ پڑھتے ہوئے یہ تاثر کافور ہو گیا-
کتاب کے سرورق کی تصویر میں جنت کے منظر کو کھلے دروازے کے ساتھ دکھایا گیا ہے- لیکن نہ کوئی حور اور نہ کوئی غلمان نظر آ رہا ہے- یہاں پہ شاد صاحب نے اپنی شاعرانہ چابک دستی کو استعمال کیا ہے وہ جمال احسانی نے کہا تھا-
جمال کھیل نہیں ہے کوئی غزل کہنا
کہ ایک بات بتانی ہے اک چھپانی ہے
شاد بھائی نے “اللہ میاں کے گھر” لکھتے ہوئے سادگی سے بتا دیا ہے کہ جنت والے ابھی بھی سیکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں- انہیں خوف ہے کہ امیر المومنین ضیاء الحق اور ملا عمر کسی کے ہمراہ فدائی کرنے نہ آجائیں-
آسان منظر نگاری سے عام آدمی اپنے آپ کو جنت میں محسوس کرتا ہے مودودی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں تم سب اقتدار کے بھوکے ہو مولا نہ نے یہ کہا اور تیزی سے جلسہ گاہ سے نکل گئے ضیاء الحق نے باہر جاتے ہوئے مولا نا مودودی کو کھڑے ہو کر سلامی دی لیکن واک آوٹ میں شامل نہیں ہوئے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے" اس ڈھائی فقرے میں' شاد صاحب نے کمال مہارت کے ساتھ ایک پورے منافقانہ عہد کی تصویر کو پیش کر دیا ہے -
اس کے علاوہ شاد صاحب نے عطیہ فیضی کا تذکرہ تو کر دیا ہے مگرایما آف ہائیڈل برگ کو گول کر دیا ہے- مادام جنرل رانی کا تذکرہ تو کر دیا ہے لیکن جنابہ نور جہاں صاحبہ کو بھول گئے ہیں -
شاد صاحب سے درخواست ہے کہ اگلی دفعہ جناب مہاتما خان صاحب -غیر شریفان- اور فیلڈ مارشل کو بھی خصوصی دعوت پر اجلاس میں بلا لیجئے گا
دوزخ نامہ پیرو مرید خضر راہ اور حسن کوزہ گر میں کئی زمان و مکان کی یکجائی کا جو اسلوب نظر ایا ہے شاد صاحب نے اس اسلوب کو " اللہ میاں کے گھر " لکھتے ہوئے خوب نبھایا ہے -
اسید محمد اشرف کی اخری سواریاں میں مختلف واقعات اور سرخ رنگ کا ذکر نیر مسعود کے ہاں سیاہ رنگ اور موت جیسی علامتیں قاری کو ایک نتیجہ حاصل کرنے میں دشواریاں پیدا کرتی ہیں - اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اشرف شاہ صاحب کی تحریر میں ربط قاری کے لیے اسانیاں پیدا کرتا ہے کیوں کہ شاد صاحب نے عام ادمی کی زبان میں عام ادمی کی دانائی کے حساب سے عام ادمی کے لیے لکھا ہے۔-
" اے کیس اف ایکسپلوڈنگ مینگوز" کو "پھٹتے ہوئے اموں کا کیس" بننے کے بعد محمد حنیف کو کچھ مشکل درپیش تھی' لیکن شاد بھائی دھنیا پودینہ لکھنے کے بعد بھی ازاد گھوم رہے ہیں-
شاد بھائی کا جو اصل کمال اس کتاب میں مجھے سمجھ ایا 'یہ ہے کہ' ایک ہی بات کو انہوں نے "اللہ میاں کے گھر" میں 21 صفحات پہ لکھا ہے اور پھر اسی بات کو دھنیا پودینہ میں صرف دو صفحات میں سمو دیا ہے- یہ شاید ان کے شاعرانہ اور صحافیانہ پس منظر کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔




Facebook Comments