- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو / طالب انصاری
سنتے آئے ہیں
دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں
لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
یہ دیواریں
کیسے بلک کے روتی ہیں
کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ
کیسے دہائی دیتی ہے
دروازوں کی بھی
آنکھیں ہوتی ہیں
رستا روکنے والی آنکھیں
بوسیدہ ٹرنکوں میں رکھّی الّم غلّم چیزیں
یک دم کتنی قیمتی ہو جاتی ہیں
چھوٹے چھوٹے طاقوں کی
نصف مربّع فٹ کی وسعت کے آگے
دنیا کتنی چھوٹی لگتی ہے
جن ٹوٹی پھوٹی اینٹوں پر
ننھّے ننھّے کومل پاوٗں
ہنستے کھیلتے جیون کا اظہار کیا کرتے تھے
وہ کچّا پکّا آنگن
پھیل کے نیل گگن جیسا ہو جاتا ہے
گم سم دالانوں کے سنّاٹے بھی
آواز دیا کرتے ہیں
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
-
ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔
یہ خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور سے تھے اور مجھے بھی اس شہر ہفت زبان میں جنم لینے،ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں م...
-
ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس گیارہ بارہ سال کی عمر ، قدرے سانولے رنگ ، چار ساڑھے چار فٹ کے قد اور بھاری جسم کے ایک لڑکے نے چند سال پہلے اطلاعی گھنٹی بجائی اور دروازہ کھلتے ہی کہا " باجی ۔۔میرا نام ساگر ہے ۔۔۔مجھے اختر بھائی نے بھیجا ہے ۔۔اماں کو بلادیں ۔"
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments