روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جمعرات کی شام بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے، جو یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد تقریباً چار سال میں ان کا پہلا بھارتی دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب یوکرین جنگ کے حل کے لیے امریکہ کی تازہ کوششیں بھی سست ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سفارتی روایت توڑتے ہوئے خود ایئرپورٹ پر جا کر پیوٹن کا استقبال کیا اور انہیں اپنے مخصوص انداز میں گلے لگایا۔

پیوٹن کا 30 گھنٹے کا مختصر دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکا اور بھارت کے تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، روس کے ساتھ بھارت کے پرانے اسٹریٹیجک تعلقات اور جنگ کے دوران روسی تیل کی خرید میں اضافے پر بھارت پر ٹیرف اور ممکنہ پابندیوں کی دھمکی دے چکا ہے۔

یہ صورتحال نئی دہلی کے اس دیرینہ سفارتی توازن کو مزید نازک بنا رہی ہے، جس میں وہ روس سے قریبی روابط برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط شراکت داری بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement