تازہ ترین
آپ آئے جہاں میں بہار آ گئی / فرزند علی سرور ہاشمی
اردو شعری روایت کے آغاز و ارتقا میں حضور صلاۃ والتسلیم کی نعت کو ہمیشہ تقدیم حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتاََ مجموعہ ہائے نعت کے علاوہ دیگر شعری اصناف کا آغاز بھی حمد و نعت سے کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مسلم اردو شعرا کے ہاں بھی یہ روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ بھی آقائے دوجہاں ؐ کی نعت پوری آب و تاب کے ساتھ کہتے آئے ہیں۔ اس ضمن میں نعت گویان راولپنڈی نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور فنِ نعت گوئی کو بام عروج پر پہنچایا۔ راول دیس کے شعری منظرنامے پر ابھرنے والی منفرد اسلوب کی حامل شاعرہ محترمہ جیا قریشی کا تعلق بھی اسی روایت سے ہے، جن کا مجموعہ ہائے نعت ”انوارِ آگہی“ کے نام سے حال ہی میں منصہ شہود پہ آیا ہے۔ جیا قریشی یہ معرفت، یہ بصیرت، یہ عرفان، یہ وجدان مدینہ طیبہ سے لے کر آئی ہیں۔ گویا ان کے نعتیہ مصرعوں میں انوار و تجلیات کا ظہور ہوا ہے۔ یہ مصرعے جب زبان سے ادا ہوتے ہیں تو سامعین کے دِلوں کی دھڑکنیں مرتعش ہو جاتی ہیں۔ ان دھڑکنوں کے زیروبم سے درودوسلام کی صدائیں ظاہر و باطن کو معطر کر دیتی ہیں۔ اسی کے باوصف جیا قریشی کے نوکِ قلم پہ آیا تھا: ”دھڑکنوں کی زباں سے پڑھتی ہوں، نعت لکھی ہوئی ہے سینے میں“۔ آقاو مولاؐ کی محبت اور توجہ عطا ہو جائے تو خیال اور فکر کے سارے دریا رحمتہ للعالمینؐ کے سمندر میں جا گرتے ہیں۔ خیال کی دنیا ایک ہی ہستی کے خیال سے آباد ہو جاتی ہے اور محترمہ جیا قریشی کا یہ مبارک سفر دعا کی صورت میں زبان سے ادا ہوتا چلا جاتا ہے:
طیبہ سے لے کے آئی ہوں انوار آگہی
یا رب مرے خیال کا محور وہیں رہے
باتوفیق صنف سخن نعت کے علاوہ محترمہ جیا قریشی نے غزل بھی خوب کہی ہے۔ اس باب میں ان کا مجموعہ ہائے غزل ”مجھے بھی سانس لینے دو“ ان کے فکری اپج کا غماز ہے۔ ان کی غزلیات سے ان کے میلانات اور رجحانات پوری طرح سے آشکار ہوئے ہیں۔ انھوں نے جہاں دیگر اہم موضوعات کو قرطاس پہ نقش کیا ہے، وہاں حیات و ممات کے موضوع پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ ان کے ہاں زندگی کو آشکار کرنے کی اپنے تئیں ایک بھرپور سعی ہے۔ زندگی واقعتاََ کسی کی دسترس میں نہیں ہوتی۔ یہ گزرتی چلی جاتی ہے۔ یہ تھمتی نہیں۔ یہ پیہم سفرکناں ہے۔ سال، مہینے، ایام، ثانیے سانسوں کی مالا سے ایک ایک کر کے گرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سفر میں کوئی بااختیار نہیں۔ جیا قریشی کے بقول ”زندگی میری دسترس میں نہیں، سانس لینا بھی میرے بس میں نہیں“۔ زندگی کے علاوہ موت جیا قریشی کے ہاں مقام وصل ہے۔ صوفیہ نے بھی اسے وصال کہا ہے۔ جب موت وصال میں ڈھل جائے تو پھر یہ اپنی حقیقی معنویت سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس کی ہیئت اور نوعیت بدل کر رہ جاتی ہے۔ عاشقین موت ایسے لمحے کے منتظر ہوتے ہیں۔ خوف پھر خوف نہیں رہتا، اشتیاق کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں:
موت کہتے ہیں جسے سب واعظین
وصل کی واحد گھڑی موجود ہے
جیا قریشی کے ہاں اچھوتے موضوعات کے علاوہ نادر تشبیات، ضرب الامثال، منفرد ردائف و قوافی، تلازمے اور استعارے موجود ہیں۔ اس ضمن میں کرب و بلا کے استعارے کو انھوں نے بیشتر مقامات پر بہت خوبصورتی سے برتا ہے۔ جیسا کہ راہِ عشق جان کا نذرانہ مانگتا ہے اور عاشقین یہ نذرانہ دیتے آئے ہیں۔ اس راہ میں کانٹے کی چبھن سے لے کر سر تن سے جدا ہونے اور جسم کا راکھ بن جانے تک لمحہ لمحہ جلوہء کرب و بلا ہے۔ جان سے جانے والے ابتدا تا انتہا اس سفر سے حظ اٹھاتے ہیں۔ جیا قریشی کے بقول ان کی نماز بھی سردشت ہوتی ہے اور کرب و بلا کی راہ میں ان کا امام ہوتا ہے۔ یہ منظر ان کے اشعار میں دیکھئے:
اس مرحلے میں جان کا جانا دوام ہے
یوں ہی تو راہِ عشق میں کرب و بلا نہیں
میں مقتدی ہوں سرِ دشت ہے نماز مری
مِرا امام ہے کرب و بلا کے رستے میں
جیا قریشی کے ہاں گہرے طنز کے ساتھ ساتھ ایک کڑی للکار ہے جس نے معاشرے کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ یہ للکار بازگشت کی صورت میں سماعت سے پیہم ٹکرا رہی اور متوجہ کر رہی ہے۔ یہ بازگشت ایک نوحہ ہے جہاں لوگ زر کے بدلے کردار، احساس اور افکار بیچ رہے ہیں۔ بظاہر آزادی کے باوجود ذہنی غلامی کے شکار لوگ موقع میسر آنے پہ دستار بیچ رہے ہیں۔ اس بھیانک رویے کے باوصف من حیث القوم ہمارے پاؤں متزلزل ہیں اور ہاتھوں میں رعشہ ہے۔حقیقت میں ہماری فکری، نظری ناپختگی اور احساسِ کمتری نے ہمیں اس دوراہے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ جیا قریشی نے بڑی جرات سے عوام کے ساتھ ساتھ مقتدر طبقے کو بھی للکارا ہے۔ للکار اور احساسِ درد کی جھلک دیکھئے:
ذہنی غلام ہیں ہم آزاد کب ہوئے ہیں
موقع ملے تو اب بھی دستار بیچتے ہیں
خبروں میں جینے والو ان کی خبر بھی رکھنا
فٹ پاتھ پر جو بچے اخبار بیچتے ہیں
محترمہ جیا قریشی کا شعری رنگ چوکھا ہے۔ فکری و معنوی امتیازات کے باوصف، راول دیس کی شعری روایت میں انھیں ایک جدا مقام حاصل ہوا ہے۔ اردو شاعری کی متعدد اصناف سخن میں جوہر سخن دکھانے پر انھیں ہدیہ تبریک پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے اس شعر کے ساتھ کہ شاعر واقعی انگار کو اشعار کرتا ہے:
تو نے پوچھا ہی نہیں درد کے شاعر سے کبھی
کیسے انگار کو اشعار کیا ہے اس نے




Facebook Comments