- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
اردو :ایک نظم / ڈاکٹر عبدالباسط صائم
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے اب کوئی
نہ ر سے رات میں چراغ ہی جلا رہے ہیں ہم
نہ ڑ سے ز سے رٌ سے آشنا رہے ہیں ہم
نہ س سے سبق کوئی نہ ش سے کہانیاں
نہ ص صبح ہے کوئی نہ ض ضُو فشانیاں
نہ طائرِ خیال کوئی ط سے نہ ظ سے غرض ہمیں
لگا ہوا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سوچ کا مرض ہمیں
سو ع عشق مر رہا ہے غ غیر کے لئے
فراق ف سےجی اٹھا ہے ق قوم کے لئے
سو ک سے کتاب ہے نہ کاغذی مہک رہی ۔۔۔
سو گ گیت لکھنے والے لوگ سارے چپ ہوئے
تو ل م ن و بھی سفر میں رُک گئے
سو ہ سے ہارنے لگی ہے ہم سے ہی زبان آج
ہماری ی سے یاس بن کے رہ گیا ہے سبز گلستان آج
ے یہ سے کیسا دور ہے ۔۔۔الف نہ ب نہ پ رہے
جو رہ گیا تو اے سے بی سے زی تلک سفر رہا
نہ ایک دو نہ تین چار
یہ کیا ستم ہے میرے یار
میں اپنی سر زمیں کے چاند تاروں کو بتاؤں کیا
میں اپنے پیارے بچوں کو کلاس میں پڑھاؤں کیا
کہ ان کی داستان میں
حیات کے مکان میں
جو اے کو بی کو سی کو سر چڑھا رہے ہیں لوگ
ہمارے دور کے الف کو منہ کے بل گرا رہے ہیں لوگ
سو اِن کے دور میں زبان کی جو بھی آج شکل ہے
نہ اس میں کوئی عشق ہے نہ اس میں کوئی عقل ہے
یہ کمتری ہے سوچ کی
اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بے تُکی سے نقل ہے۔۔۔
-
انگریزی حروفِ تہجی میں سیریل ٹو اور ٹوینٹی ٹو پر آنے والے دونوں حروف بی اور وی الگ الگ تو شاید کسی خاص اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن یہ دونوں مل کر ایک بہت خطرناک لفظ ”بیوی“ بناتے ہیں جی ہاں یہی بیوی دنیا کے تقریباً اسی فی صد مردوں یا شوہروں کی زندگی میں آکر دل دہلا...
-
شاعری شاعرکی جان ہوتی ہے،اور ہر شاعرکا کلام اس کے تخیل کا شاہکار ہوتا ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اپنا جو معافی الضمیر بیان کرتا ہے،یہ اسے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ سننے والا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق غزل و نظم کی تشریح کرتا ہے۔اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کسی ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments