- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
اردو :ایک نظم / ڈاکٹر عبدالباسط صائم
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے اب کوئی
نہ ر سے رات میں چراغ ہی جلا رہے ہیں ہم
نہ ڑ سے ز سے رٌ سے آشنا رہے ہیں ہم
نہ س سے سبق کوئی نہ ش سے کہانیاں
نہ ص صبح ہے کوئی نہ ض ضُو فشانیاں
نہ طائرِ خیال کوئی ط سے نہ ظ سے غرض ہمیں
لگا ہوا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سوچ کا مرض ہمیں
سو ع عشق مر رہا ہے غ غیر کے لئے
فراق ف سےجی اٹھا ہے ق قوم کے لئے
سو ک سے کتاب ہے نہ کاغذی مہک رہی ۔۔۔
سو گ گیت لکھنے والے لوگ سارے چپ ہوئے
تو ل م ن و بھی سفر میں رُک گئے
سو ہ سے ہارنے لگی ہے ہم سے ہی زبان آج
ہماری ی سے یاس بن کے رہ گیا ہے سبز گلستان آج
ے یہ سے کیسا دور ہے ۔۔۔الف نہ ب نہ پ رہے
جو رہ گیا تو اے سے بی سے زی تلک سفر رہا
نہ ایک دو نہ تین چار
یہ کیا ستم ہے میرے یار
میں اپنی سر زمیں کے چاند تاروں کو بتاؤں کیا
میں اپنے پیارے بچوں کو کلاس میں پڑھاؤں کیا
کہ ان کی داستان میں
حیات کے مکان میں
جو اے کو بی کو سی کو سر چڑھا رہے ہیں لوگ
ہمارے دور کے الف کو منہ کے بل گرا رہے ہیں لوگ
سو اِن کے دور میں زبان کی جو بھی آج شکل ہے
نہ اس میں کوئی عشق ہے نہ اس میں کوئی عقل ہے
یہ کمتری ہے سوچ کی
اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بے تُکی سے نقل ہے۔۔۔
-
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے&... -
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی ت...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments