- Islamabad
- 23.2°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
اردو :ایک نظم / ڈاکٹر عبدالباسط صائم
یہ دور کیا عجیب دور ہے
کہ جس میں دُور دُور تک
ہمارے دور کا الف نہ ب نہ پ نہ ت رہے
نہ ٹ سے ٹہنیاں رہیں کہ جن سے ث ثمر ہی توڑتا ہے اب کوئی
نہ ٹہنیوں سے ج جھولا جھولتا ہے اب کوئی
نہ ح نہ خ نہ د ڈ ذ بولنے کا ذوق ہے ، نہ بولتا ہے اب کوئی
نہ ر سے رات میں چراغ ہی جلا رہے ہیں ہم
نہ ڑ سے ز سے رٌ سے آشنا رہے ہیں ہم
نہ س سے سبق کوئی نہ ش سے کہانیاں
نہ ص صبح ہے کوئی نہ ض ضُو فشانیاں
نہ طائرِ خیال کوئی ط سے نہ ظ سے غرض ہمیں
لگا ہوا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سوچ کا مرض ہمیں
سو ع عشق مر رہا ہے غ غیر کے لئے
فراق ف سےجی اٹھا ہے ق قوم کے لئے
سو ک سے کتاب ہے نہ کاغذی مہک رہی ۔۔۔
سو گ گیت لکھنے والے لوگ سارے چپ ہوئے
تو ل م ن و بھی سفر میں رُک گئے
سو ہ سے ہارنے لگی ہے ہم سے ہی زبان آج
ہماری ی سے یاس بن کے رہ گیا ہے سبز گلستان آج
ے یہ سے کیسا دور ہے ۔۔۔الف نہ ب نہ پ رہے
جو رہ گیا تو اے سے بی سے زی تلک سفر رہا
نہ ایک دو نہ تین چار
یہ کیا ستم ہے میرے یار
میں اپنی سر زمیں کے چاند تاروں کو بتاؤں کیا
میں اپنے پیارے بچوں کو کلاس میں پڑھاؤں کیا
کہ ان کی داستان میں
حیات کے مکان میں
جو اے کو بی کو سی کو سر چڑھا رہے ہیں لوگ
ہمارے دور کے الف کو منہ کے بل گرا رہے ہیں لوگ
سو اِن کے دور میں زبان کی جو بھی آج شکل ہے
نہ اس میں کوئی عشق ہے نہ اس میں کوئی عقل ہے
یہ کمتری ہے سوچ کی
اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی بے تُکی سے نقل ہے۔۔۔
-
شادی نے زندگی کے معمولات کو تھوڑا سا تبدیل تو کردیا تھا لیکن خدا وند کریم نے مجھ پر ایک عنایت ضرور کی تھی کہ اہلیہ اکنامکس میں ایم اے ہونے کے باوجود شعر و ادب سے زیادہ منسلک تھیں۔ اور یہ امر میرے لئے خوش کن تھا۔ شاید اس لئے بھی کہ اکثر شاعروں کی بیویاں عموما شاعری کو اپنا ر...
-
وہ رقاصہ ہے
مطربہ ہے
اور بلا کی حسین اور تند خو ہے
اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا
ہنر تو آگیا ہے لیکن
محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا
ابھی اس نے نہیں سیکھا
ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف
مگر وہ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments