سیمیں کرن مشہور معروف کہنہ مشق افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار ہیں ۔

سیمیں کرن نے اپنا تازہ ترین ناول " اک معدوم کہانی ،" مجھے کچھ دن پہلے بھیجا ۔۔میری تسائل پسند طبیعت سے وہ کچھ کچھ واقف بھی ہیں اس لئے تین چار دن قبل مسیج کر کے ناول کے بارے میں ابتدائی تاثرات جاننا چاہا۔۔میں ابھی تعریف کرنے کی تمہید باندھ ہی رہا تھا کہ انہوں نے پوچھا کہ کتنا پڑھا ہے اور کب تک پڑھ لو گے۔ ؟

۔اب میرے لئے صاف گوئی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا چنانچہ فورا ہی ذہن میں شرعی قسم کے عذر کا خیال ایا ۔۔۔۔

اور عرض کیا ۔۔۔ کہ دراصل چند دنوں تک لندن جانے کا پروگرام ہے اس لیے سوچ رہا ہوں کہ واپسی پہ ارام سکوں سے سارا پڑھ کے تاثرات بیان کر دوں "

یہ سنتے ہی سیمیں کرن نے مخصوص خلوص محبت بھرے انداز میں دھمکی دے ڈالی کہ لندن جانے سے پہلے ناول کو پورا پڑھنا پڑے گا ۔

یہ دھونس خاصی کارگر ثابت ہوئی اور یوں دو چار دنوں میں ناول کی ایک ایک سطر پڑھ لی۔

قارئین کرام ۔۔ میں نہ تو سکہ بند تنقید نگار ہوں۔ نہ میرے پاس تنقید نگاری کے مروجہ دو چار قسم کے سانچے گھڑے ہوئے ہیں جن میں فقط نام و مقام بدل کے کام چلایا جا سکتا ہے ۔

میری بد قسمتی کہہ لیجئے کہ ادب کو بطور مضمون باقائدہ پڑھا ہوا نہیں ہے اس لئے لکھتے ہوئے بہت ساری رسمی قباحتوں کو نبھانے کا مکلف بھی نہیں ٹھہرتا ہوں۔

مجھے یہ بھی تسلیم کہ۔۔۔۔

شعری و نثری اصناف کے بنیادی اور مروجہ اصول و ضوابط اور رموز سے نابلد ہوں اس لیے محترم میرے قریبی ادبی احباب اس کوتاہی کو کھلے دل سے اکثر معاف رکھتے ہیں

سیمیں کرن کا یہ ناول " اک معدوم کہانی " مروجہ پلاٹ و کردار کی ڈگر سے ہٹ کے ہے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیمیں کرن کتنی پر اعتماد لکھاری ہے اور جو وہ سوچتی ہے بلا کم کاست اور بے دھڑک لکھ دیتی ہیں ۔

مجھے ذاتی طور پہ "ٹراوٹ مچھلی " صرف اس لیے اچھی نہیں لگتی کہ اس کا ذائقہ بہت لذیذ ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ صاف پانی میں رہتی ہے اور اسکی سب سے بڑی خوبی اور سرشت کہ پانی کے بہاو کے مخالف تیرتی ہے اور مشکل ترین چیلنج قبول کرتی ہے ۔بعین ہی سیمییں کرن نے اس ناول کی ساخت و ہیئت میں بہت سارے نئے تجربے کئے ہیں ۔

ناول کے بارے میں گزارشات تین عنوانات کے تحت کروں گا ۔

پلاٹ ،منظرنامہ اور کردار

پلاٹ۔

۔اک معدوم کہانی " کا پلاٹ بہت وسیع،اور کرہ ارض

کے دو خطوں تک پھیلا ہوا ہے یہ زمینی فاصلہ اتنا اہم نہیں جتنا زمانہ قدیم سے دور جدید کے موجودہ حال تک بکھری کڑیاں ملانا اسان نہیں تھا۔ سیمیں کرن مشکل پسند ہے ۔ اس نے الجھاو کو سلجھاو میں بدلنے کے لئے بہت محنت اور عرق ریزی سے ڈائنوسار عہد کو کھنگال ڈالا ہے۔ انسانی فطرت اور تہذیبی روئیے سے پیدا ہونے والی گہری نفسیاتی پیچیدگی اور انکی عملی حساسیت کے اثرات اصل موضوع ہے۔ ماضی اور حال کے گھن چکر کو اتنی باریک بینی اور کمال مہارت سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری اسے سرسری پڑھ کے اگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔۔ ۔اس ناول میں سوچ کے اتنے زاوییے ہیں کہ کسی بھی اچھے شعر کی طرح معانی کی تہہ داری اور پرتیں حیرت زدہ کر دینے والی ہیں ۔ ناول کا پلاٹ ۔۔۔ڈائینوسار کے عہد معدومیت سے شروع ہوتا ہے اور اسکے بعد کے ادوار میں روایات کی جہاں داغ بیل ڈالی جا رہی ہوتی ہے وہاں پہ معدومیت کا تسلسل بھی اسی شدت سے جاری رہتا ہے۔

بلکہ یوں کہیے کہ ایک جھیل ہے جس میں ایک طرف تازہ پانی کی امد تو دوسری طرف اسی رفتار سے خروج کا عمل بھی جاری رہتا ہے ۔

پلاٹ کے بادے میں یوں بھی کہا جا سکتا ہوں کہ اس ناول کا کینوس ایک ایسے دائرے پہ محیط ہے جس میں دو مختلف تہذیبوں کے قدیم و جدید رنگ بیک وقت ضم بھی ہونے لگتے ہیں اور بکھرنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔

منظر نامہ ۔ ناول کا منظر نامہ بہت متنوع ہے ۔ ڈرائینگ روم سے نکل کر امریکہ کی ریاستوں کے تاریخی عجائب گھروں سے ہوتا ہوا لائل پور کے گھنٹہ گھر اور اٹھ بازاروں کا منظر اتنا مسحور کن ہے کہ قاری تاریخ کے جھروکوں میں بیٹھ کے خود کو اسی فضا میں کھویا ہوا پاتا ہے ۔

کردار ۔

سیمیں کرن کے ناول " اک معدوم کہانی " کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بلاضرورت کرداروں کی بھرمار نہیں۔ روحا ، ہاشم ، کنول ،وسیم ،لنڈا کے علاوہ انٹی لنڈا ، سیم گپتا ،البرٹ ،انیتا ، ایوا ،ایما رشید چچا اور افتاب احمد ۔۔ اپنی اپنی جگہ نگینے کی طرح فٹ ہیں۔ ہر کردار اپنی جگہ پہ اپنے ماضی کی روایات سے جڑا ہوا اور اپنے نظریات و خیالات میں راسخ ۔۔۔۔لیکن دوسرے کے نکتہ نظر کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ قبول و برداشت کرتا ہوا۔

ناول کے شروع میں روحا اور ہاشم کی باہمی گفتگو اور خیالات و عادات اور روئیے کو علم نفسیات سے دلچسپی رکھنے والے طالبعلم کیس سڈی ( ریسرچ) کے طور پہ مطالعہ کر سکتا ہے ۔میاں بیوی کی باہمی کشمش اور روحا کے لاشعور میں رچے بسے ماضی کی بازگشت اور عہد قدیم کی بازیافت قاری کو بہت متجسس رکھتی ہے۔ پھر پہلی ڈائیری اور دوسری ڈایئری میں پاکستان کی سیاسی تاریخی واقعات اور انکے دور رس اثرات کا بھی خوب تجزیہ اور احاطہ کیا گیا ہے۔

پہلی ڈائیری اور دوسری ڈائیری کے کرداروں سے تیسرا کردار جنم لیتا ہے جو ناول میں کسی حد تک مرکزی کردار بن کے ابھرتا ہے

ناول میں کچھ کردار۔۔انکل رشید اور ۔۔ان سے مافوق الفطرت اور محیر اعقول واقعات اور ان کہی پر اسرار باتیں جدید دور کے قاری کو چونکا دینے والی ہیں۔ یہاں پڑھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں مجھے اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب کے کرداروں میں کہیں کہیں مماثلت دکھائی دی ۔

ناول کی مختصر تریں خلاصہ ۔۔

پہلے باب میں ۔۔۔روحا کی شادی ہاشم سے ہوتی ہے دوںوں امریکہ میں جاتے ہیں۔۔وہان پہ روحا جو ماضی کے دھندلکوں اور ڈائینوسار عہد میں خود کو کسی بھٹکی ہوئی روح کا حصہ محسوس کرتی ہے وہ لاشعوری طور پہ کچھ مقامات دیکھ کے اس کیفیت میں کھو جاتی ہے ہاشم اسکی اس عادت سے بے چین صرور ہوتا ہے مگر وہ کھلے دل سے اسکی دلجوئی بھی کرتا رہتا ہے۔

دوسرا باب۔ ۔زیادہ تر دو ڈائیریوں پہ مشتمل ہے۔ پہلی ڈائری اور دوسری ڈائری ۔۔سال و تاریخ کے حساب سے بہت دلچسپ ہے۔ قاری اس مخصوص سال میں رونما پوںے والے ملکی سطح کے واقعات کی جھلک کے ساتھ ساتھ انکے اثرات سے بھی بخوبی اگاہ ہوتے ہیں۔ مریم اور وسیم کی لکھی گئی یہ ڈائریاں ندی کے بہتے دو کنارے لگتے ہیں اور قاری شدت سے منتظر ہوتا ہے کہ انکا سنگم کس مقام پہ اور کب ہو گا۔ ۔

تیسرا باب لائل پور کے تاریخی مقامات ، شخصیات کے بارے بالکل انوکھے انداز سے ذکر کیا گیا ہے۔

گھنٹہ گھر اور اس کے ارد گرد پھیلے آٹھ بازار ۔۔۔ثقافتی ،سنماجی اور معاشرتی رویوں کے استعارے بن کر لائل پور کی خوب نمائیدگی کرتے ہیں۔

اسی کے اخر میں۔۔۔۔ناول کے تین مرکزی کردار ۔۔روحا مریم اور وسیم ایک بڑے دائیرے میں گھومتے گھومتے تیزی کے ساتھ مرکزی نقطہ کی جانب گردش کرنے لگتے ہیں۔ یہاں ان صفحات کو پڑھتے ہوئے قاری ناقابل یقیں حد تک رونما ہونے والے واقعات سے چونک اٹھتا ہے ۔

ناول کے وہ پہلو جس کی کمی مجھے محسوس ہوئی ضروری نہیں کہ ہر قاری اسی کیفیت سے گزرے ۔ یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے ایک لحظہ بھی سوچنا نہیں پڑ رہا ۔۔۔ کہ سیمیں کرن سے مروت و ادب اور اخلاص بھرا جو تعلق ہے اس میں دراڑ پڑے گی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ کیونکہ مجھے ۔معلوم ہے کہ اسے نہ تو میری تعریف سے فرق پڑے گا نہ میری تنقید سے ۔ کیونکہ سیمیں کرن نے یہ ادبی مقام و رتبہ اور قد کاٹھ اپنی بے پناہ محنت اور اللہ کے فضل سے بنایا ہے اس کی ادبی شہرت اور مقام کو ذرہ برابر بھی زک نہیں پہنچے گی ۔

۔۔ناول پڑھتے ہوئے مجھے کچھ پہلو جو کمزور لگے۔۔اپ اسے میری کم فہمی اور محدود سوج بوجھ سمجھ کے اسانی سے صرف نظر ںھی کر سکتے ہیں۔ میری دانست میں ناول کے کردار روحا اور ہاشم اتنے جاندار ، متحرک اور ہمہ جہت تھے کہ فقط ان کی مدد سے ہی ناول کو اگے بڑھایا جا سکتا تھا ۔ مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب ہاشم جیسا مضبوط کردار بتدریج ماند پڑتا گیا حتئ کہ اخر میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے معدوم کر دیا گیا ۔ اسکے مقابل۔۔۔ اگے چل کر روحا کی ماں مریم اور وسیم زیادہ ابھرتے چلے گئے ۔جس میں بظاہر کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے کہ مصنفہ جس طرح چاہے کرداروں سے کام لے لیکن یہاں ہاشم جیسے کردار کا غائب ہو جانا مجھے کھٹکتا رہا ہے ۔

دوسرا پہلو جسے کسی اور زاوئے بھی پیش کیا جاسکتا تھا ۔وہ ناول " اک معدوم کہانی "میں Oedpus l کی طرز پہ ٹریجیڈی کا پیش کیا جانا جس میں انیتا۔۔اور وسیم کا غیر فطری تعلق دکھایا گیا جس کے بارے میں یہ گماں بھی پیدا کیا گیا کہ وہ بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں۔اور اخری بات جو میرے جیسے قاری کو ہضم نہیں ہو پا رہی وہ یہ کہ مصنفہ کو کیا جلدی پڑ گئی تھی کہ ناول کے خوبصورت کینوس پہ بکھرے رنگوں کو اک دم سے سمیٹ دیا جائے ۔ اخری صفحات میں بہت تیزی کے ساتھ واقعات کا بہاو، قاری کا سانس پھولنے لگتا ہے ۔البتہ قاری کی بڑھتی دل چسپی کی وجہ سے اسے اپ خوبی بھی متصور کر سکتے ہیں

ناول کی خوبیاں ۔

سیمیں کرن کے اس ناول ۔۔اک معدوم کہانی " میں انداز بیاں کے ساتھ ساتھ خوبصورت مرصع نثر خاصے کی چیز ہے ۔میرا خیال ہے اس عہد کے بہت کم لوگ اس اعلئ پایہ کی نثر لکھنے پہ عبور رکھتے ہیں ۔

دوسری خوبی کہ منظر نگاری کی بے جا طوالت کا شکار ہوئے بغیر سیمیں کرن نے کرداروں سے نظریات کو خوبصورتی سے مکالمات ، خود کلامی اور خیال افرینی سے صفحات کو سجایا ہے ۔۔یہ اس ناول کا سب سے مضبوط پہلو ہے۔

تیسری خوبی کہ ناول غیر ضروری کرداروں کی بھرمار سے پاک ہے ۔چند ایک گنے چنے کردار جو اپنا رول بہت مختلف مگر جامعیت کے ساتھ نبھاتے ہیں۔۔

چوتھی خوبی ۔ تاریخی واقعات اور معلومات کا بیش بہا خزانہ اس ناول میں سمو دیا گیا ہے

پانچویں خوبی ۔۔نفسیاتی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے بہترین کیس سٹڈی ہے ۔

چھٹی خوبی۔ ذاینوسسار ۔۔کو جہان علامت کے طورپہ سیمیں کرن نے اسے برتا ہے امریکہ کے تناظر میں وہاں پہ اس کا حال میں بھی تسلسل بہت معنی خیز ہے یہ مصنفہ کی کمال مہارت اور مضبوط گرفت کا واضح ثبوت ہے ۔

ساتویں خوںی ۔عالمی استعماری رویوں کی نشاندہی بغیر کسی لگی لپٹی کے کر دی گئی ہے

اٹھویں خوبی۔ ۔مصنفہ نے پوری تحقیق اور ذمہ داری سے واقعات کی تاریخ حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے جو نتائج مرتب کئے ہیں وہ بالکل قریں قیاس لگتے ہیں۔۔

نویں خوبی۔ مصنفہ نے فکشن کو اس کمال خوبصورتی و مہارت سے لکھا ہے کہ کچھ بھی غیر حقیقی نہیں لگتا ۔

دسویں خوبی۔۔ سیمیں کرن کی ناول میں پلاٹ پہ اخر تک گرفت مضبوط رہتی ہے ۔کہیں جھول نظر نہیں اتا۔

۔۔۔۔۔۔۔تحریر سے کچھ اقتباس

"انسانی جبلت بڑی ظالم شئے ہے ہر تہذیب کا صفحہ پھاڑ کر دانت نکوستی باہر ا جاتی ہے۔پاکستاں اج پوسٹ کولونیل زلزلوں سے جھومتا ،جھولتا ملک ہے۔جس کی بد قسمتی کہ اج ان کے اپنے ہی استعماری قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور مظلوم عوام میں ابھی تک اہنی شناخت ،اپنی تہزیب کے معدوم ہو جانے کی رائیگانی ناپید ہے۔ ہان ان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں معدوم ہونے کی رائیگانی عدم ہے ,"

کیا ایما کا یوں اچانک ا جانا کچھ عجب اور پراسرار نہیں لگا تمہیں ؟ ایک شخص جو مکمل طور پر غائب ہو جائے ،کبھی خبر نہ رکھے اور پھر اچانک ا جائے "

قدیم جادو گر اسکے کانوں میں محبت کی اسرار بھری سرگوشی میں بولا۔۔او میرے ساتھ بہت زمانوں ،قرنوں قبل تمہیں دکھاوں کہ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔اسکے اگے پیچھے کا فرق مٹ گیا تھا اسکی انکھ بیک وقت ماضی ،حال اور مستقبل کو دیکھ سکتی تھی۔ "

ایما زمیں پہ ا گئی تھی تم نے ہر عہد کے ڈائینو سار کو ختم کرنے کے لیے اپنے بدترین ڈائینوسار کو جنم دیا۔۔۔۔"

ہاشم ان سناٹوں کو محسوس کرو۔

ہماری اوازوں کی غیر موجودگی میں کیا اواز معدوم ہو جاتی ہے ۔۔وہ اوازیں جو ادا ہو گئیں لبوں سے ،وہ لہریں کہاں چلی گئیں ،کیسے مر گئیں ۔؟

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement