- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
”تاج پوشی“کا کھیل / سیّد عارف سعید بخاری
پاکستان کی 75سالہ جمہوری تاریخ میں پہلی بارقوم کابچہ، بوڑھا اورجوان جان چکاہے کہ حکومتوں کی اُکھاڑ پچھاڑ کے”پس پردہ“کون سی قوتیں سرگرم عمل رہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں ”سلطانی ٹوپی“پہنے یہ ساراکھیل کھیلاجاتا تھا۔جبکہ اس مرتبہ جاری کھیل میں کچھ بھی ڈھکا چھپانہیں رہا۔عدالتوں سے نااہل قراردئیے جانے والے ایک رہنماء کی آئندہ ”تاج پوشی“کے لئے باقاعدہ پلان ترتیب دیا گیا یعنی”مک مکا“کیا گیا۔جب تمام معاملات طے پاچکے توپھرالیکشن کا”ڈرامہ“کرنے اورملک وملت کااربوں روپیہ اس پرضائع کرنے کی ضرورت کیاتھی۔؟ایک بات توطے ہے کہ پاکستانی عوام کی رائے کی کوئی وقعت نہیں۔”عوام”ووٹ“جس پارٹی یاامیدوار کوبھی دیں،نتیجہ اداروں کے مفادات کے تابع ہی آتاہے۔دنیاکے کسی بھی جمہوری ملک میں یہ پریکٹس نہیں کی جاتی کہ عوام کی رائے کوہی روند دیاجائے۔اس سے قبل 1971ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا۔لیکن کسی نے اس سانحہ سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔۱ب8فروری2024ء کوہونے والے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورت حال پیداکردی گئی ہے۔انتشاروتفریق کاجوماحول پیداکیا گیا ہے۔اس کا نتیجہ ملک وملت کی تباہی کی صورت سامنے آنے کاامکان ہے۔ملکی سلامتی سے بڑھ کرکچھ بھی ناگزیرنہیں ہو سکتا۔کوئی لیڈرملک کیلئے اتناضروری نہیں، جتناملکی سلامتی مقدم ہوناچاہئے۔ پاکستان سمیت دنیا کے پیشتر ممالک میں کتنے ہی رہنماء ایسے گذرے ہیں کہ جن کے بارے میں یہی کہاجاتا تھا کہ شایداُن کے جانے کے بعدملک کو چلانا مشکل ہوجائے گا۔ان رہنماؤں میں مصری صدر جمال عبدالناصر،انوارالسادات،عراقی صدر صدام حسین،پاکستانی صدرفیلڈ مارشل محمدایوب خان،وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو،جنرل ضیاء الحق،جنرل پرویزمشرف وغیرہ شامل ہیں۔نوازشریف بھی کافی عرصہ برطانیہ میں رہے،پھر بھی یہ ملک چلتارہاہے۔المیہ یہ ہے کہ لیڈر کتناہی باصلاحیت اورسمجھدارکیوں نہ ہو،انہیں چلنے ہی نہیں دیا جاتا۔تمام رہنماؤں کا انجام تاریخ میں لکھا جاچکا ہے۔سبھی حکمرانوں کے اردگردمفادپرست،منافق اور”ٹاوٹ“ قسم کے لوگوں کاایک ٹولہ جمع ہوجاتا ہے۔یہی لوگ”رہنماؤں“کی بربادی کی تاریخ لکھتے ہیں۔یہی لوگ لوٹ مارکرکے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔اوربدنامی ”قائدجمہوریت“کے کھاتے میں لکھوادی جاتی ہے۔2018ء میں بھیعمران خان کوبھی مقتدرقوتوں نے ”میدان سیاست“ میں ایک”نجات دہندہ“کے طورپراتاراتھا۔اوربالآخرانہیں ملک کاوزیراعظم بنوا دیاگیا۔فرق صرف یہ پڑا کہ ماضی میں لیڈران کرام کوجب بھی”بے آبرو“کرکے اقتدار سے الگ کیا جاتا تھا تو وہ اس ظلم وزیادتی پرخاموش ہوجاتے تھے جبکہ عمران خان نے اقتدار سے الگ کئے جانے پرمقتدرقوتوں کوہی بے نقاب کرنے کاآغازکردیا۔لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ عمران خان نے توفقط ایک جملہ ”کوئی رہ تونہیں گیا“ہی بولا تھاجبکہ ”خیرخواہانانِ ملت“نے پوراگیت ہی قوم کوسناکرتمام پردے ہی ”وا“کردئیے۔اس پریکٹس کاسب سے زیادہ نقصان مقتدرقوتوں کی ساکھ کوپہنچا۔دنیا بھرمیں ہمارے اداروں اورقابل احترام شخصیات کی جگ ہنسائی ہوئی،بلکہ عالمی سطح پر ان کی مسلسل تضحیک کی جا رہی ہے۔دشمن ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مشغول ہوچکا۔ملک میں کسی من پسندرہنماء کی ”تاج پوشی“سے زیادہ ملکی سلامتی اہم ہے۔لیکن ہمیں اس کی کوئی فکرنہیں۔ہم طاقت کے زعم میں سب کچھ بھلابیٹھے ہیں۔ہم ہر باراپنی توانائیاں محض ایک ”لیڈر“کوبدنام کرنے اوراس کے مدمقابل کو”فرشتہ“بناکرقوم پرمسلط کرنے پرصرف کررہے ہیں۔
-
انگریزی حروفِ تہجی میں سیریل ٹو اور ٹوینٹی ٹو پر آنے والے دونوں حروف بی اور وی الگ الگ تو شاید کسی خاص اہمیت کے حامل نہ ہوں لیکن یہ دونوں مل کر ایک بہت خطرناک لفظ ”بیوی“ بناتے ہیں جی ہاں یہی بیوی دنیا کے تقریباً اسی فی صد مردوں یا شوہروں کی زندگی میں آکر دل دہلا...
-
شاعری شاعرکی جان ہوتی ہے،اور ہر شاعرکا کلام اس کے تخیل کا شاہکار ہوتا ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اپنا جو معافی الضمیر بیان کرتا ہے،یہ اسے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ سننے والا اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق غزل و نظم کی تشریح کرتا ہے۔اور جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کسی ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments