- Islamabad
- 23.8°C
- Today ( Monday, 27 April 2026)
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں / بدر۔م۔ ژرف
جواہرات بہت خوش نما سنگھار میں ہیں
خلل پذیر ہیں گو دل پذیر پیار میں ہیں
مجھے مراد کا حاصل ہے سہل کر لینا
مفاد اس سے مگر تیرے اختیار میں ہیں
بقیہ اچھے ہوں جیسے گزرنے والے تھے
رفاقتوں کے جو لمحات انتظار میں ہیں
جنون میں تھا ابھی جانا، عندلیب کا رمز
بہار ان میں نہیں ہے کہ جو بہار میں ہیں
ہزار شہر میں تھے گرد خیز، گم کردہ
فقیرِ گم شدہ کی پستیٔ مزار میں ہیں
رواں ہیں دیدۂ جاناں کو اشک بہرِ مقام
خلیج آبِ ستادہ کے انحصار میں ہیں
اصول پیش رہا گرچہ کرب شدت تھا
سرشک چشم گریزاں مگر قطار میں ہیں
نم ان کی آنکھ میں ارحم تھا میرے گریہ میں
دھنک کے رنگ سبھی شامل آبشار میں ہیں
کبھی نہیں تھا سروکار روزگار سے ژرفؔ
یہ روزگار کے جھگڑے بھی روزگار میں ہیں
-
شعیب تاک رہا تھا، خاتون جب سامنے والی دوکان سے پلٹی۔ انڈوں کا بھاؤ پوچھا تو شعیب نے تین سو ستر روپے درجن بتایا۔ خاتون نے ساڑے تین سو کا مطالبہ کیا تو شعیب نے جھٹ سے "کوئی بات نہیں کہ کر" تھیلی تھما دی۔ حصہ دار نے کندھے اچکائے تو شعیب پیسے گنتے ہوئے بولا "گننے...
-
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھو...
Stay Connected
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments