تازہ ترین
خاکروب / شمع اختر انصاری
ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس گیارہ بارہ سال کی عمر ، قدرے سانولے رنگ ، چار ساڑھے چار فٹ کے قد اور بھاری جسم کے ایک لڑکے نے چند سال پہلے اطلاعی گھنٹی بجائی اور دروازہ کھلتے ہی کہا " باجی ۔۔میرا نام ساگر ہے ۔۔۔مجھے اختر بھائی نے بھیجا ہے ۔۔اماں کو بلادیں ۔"
اتنے چھوٹے سے بچے نے ایک مختصر مگر مکمل تعارف کرواتے ہوئے آنے کا مدعا بیان کیا ۔یہ ساگر سے ہماری پہلی ملاقات تھی ۔ اور کچھ عرصے بعد ساگر سے ساگر بھائی ہونے میں اس بچے کی اچھی عادات کا ہاتھ ہے ۔
ساگر کی والدہ سرکاری جاروب کش ہیں اور ساگر ان کا ہاتھ بٹاتا ہے ۔ہماری گلی بلدیہ کے خاکروبی ریکارڈ میں موجود نہیں لہذا گھر کا کچرا پھینکنے کے لیے ابو نے ان کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہا تھا ۔ رفتہ رفتہ ساگر سارے محلے کے گھروں کاکچرا اٹھانے لگا ۔ ساگر مقررہ وقت پر آتا ہے اتوار کے علاؤہ چھٹی نہیں کرتا کوئی فاضل کام کہہ دیا جائے مثلاً گلی کی صفائی ، دھلائی ۔۔ساگر کبھی انکار نہیں کرتا کوئی دن بتا دیتا ہے اور اس دن بغیر کہے لازمی کام کردیتا ہے ۔ اگر ممکن نہ ہوتو اس دن آکر عذر بتاتا ہے اور آگے کوئی دن طے کر لیتا ہے ۔ کبھی ایک دن کی یا پندرہ دن کی چھٹی کرنی ہو تو ہر گھر میں پیشگی اطلاع دیتا ہے ۔ساگر جاروب کشی کرتا ہے نالیاں صاف کرنا اس کاکام نہیں ۔
ساگر کی عادتیں اتنی اچھی ہیں کہ محلے کا ہر فرد ساگر بھائی کہہ کر پکارتا ہے
محلے کے ہر گھر کی ماں ساگر کی اماں ہے ، ہر بھابھی ساگر کی بھابھی ہے ہر غیر شادی شدہ لڑکی بلا تفریق عمر ساگر کی باجی ہر لڑکا بھائی ہے اور ہر گھر کے والد صاحب کو ساگر ابا بلاتا ہے ۔عید الفطر اور عید الاضحی ، رمضان ، بارہ ربیع الاول ، محرم میں گلی کی صفائی ساگر کی از خود زمہ داری ہے ۔۔ اس کے لیے کبھی پیسے نہیں مانگے ۔۔کوئی دے دے تو شکر گذار ہوتے ہیں۔ عید اور بقر عید کے دو تین بعد اپنی ڈیوٹی کے اوقات کے علاؤہ صرف ایک دن سلام کرنے ،عید مبارک کہنے آتے ہیں عیدی دے دو تو ٹھیک ۔۔ نہ دو تو مانگتے نہیں ۔ ایسا ہی رکھشا بندھن پر کرتے ہیں اس دن ساگر کے ماتھے پر تلک اور ہاتھ میں راکھی بندھی ہوتی ہے اس دن خاص طور پر محلے کی باجیوں کو سلام کرنے آتے ہیں ۔
دو تین مہینے بعد ڈیوٹی ٹائم کے علاؤہ آتے ہیں اور جو بھی دروازہ کھولے اس سے سارے گھر کی خیریت معلوم کرتے ہیں ۔گھر کی شادی ، پیدائش پر مبارک باد دیتے ہیں اور اموات پر تعزیت کرتے ہیں لیکن کہیں طلاق و خلع کا سن لیں تو انجان بن جاتے ہیں ۔دو تین دن مسلسل اگر بہنیں ، بھابھیاں کچرا دیں تو " اماں " کی خیریت معلوم کرتے ہیں ۔طبیعت خراب سنیں تو ہتھیلیاں آسمان کی جانب پھیلا کر کہتے ہیں " بس باجی ۔۔اللہ میاں کو کہہ دیا ہے ٹھیک ہو جائیں گی ان شاءاللہ۔" ساتھ ہی ہاتھ سے کان کی جانب فون کا اشارہ کر کے کہتے ہیں " سخی پیر ۔۔۔میری بڑی سنتے ہیں ۔انہیں بھی فون کرتا ہوں" ( طریل شاہ بخاری المعروف ،سخی پیر۔۔ساگر کے علاقے کی مشہور زیارت گاہ ہے اور ہندو کمیونٹی مزاروں کو بھگوان کی طرح مانتی ہے )
ہمارے گھر سے کبھی ماہانہ بڑھانے کے لیے نہیں کہا کیوں کہ " آپ کے گھر کی وجہ سے مجھے اس محلے میں کام ملا ہے ۔"گرمیوں کے دن اکثر صبح ہمارے گھر سے ٹھنڈا پانی مانگتے ہیں اور ہم انہیں کانچ کے گلاس میں بلا تردد پانی پیش کرتے ہیں محلے والے استکراہ کرتے ہیں کہ کچرے کے ہاتھ یا مذہب ۔۔۔۔( گلاس سادہ پانی سے سات بار دھونے سے پاک ہوجاتا ہے لہذا ہم سینٹی نہیں ہوتے ۔)
سال بھر پہلے صبح سات بجے اطلاعی گھنٹی بجی ۔۔۔۔ روزانہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ والے "ساگر صاحب " ڈریس پینٹ ، شرٹ ، ٹائی ، جوتے اورموزے پہنے ، ایک لفافہ لیے موجود تھے ۔ "باجی ۔۔فائل ہو تو دے دیں ۔۔مجھے انٹرویو کے لیے جانا ہے ۔۔ابھی اسٹیشنری کی دکانیں بند ہیں ۔"
"انٹرویو ؟"
" جی باجی ۔۔۔بحریہ میں سرکاری نوکریاں آئی ہیں مجھے آج جانا ہے ۔"
" ساگر بھائی کتنا پڑھا ہے ؟" ہم نے ایک فائل خالی کر کے دیتے ہوئے پوچھا ۔
" باجی ! آپ کے بھائی نے ایم ایس سی کی ہے ۔" ساگر نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ادب سے بتایا ۔۔
کچھ دن بعد انٹرویو کا نتیجہ معلوم کیا تو بتایا " باجی ! بحری جہاز پر نوکری مل گئی تھی ۔۔تنخواہ بھی اچھی تھی مگر میری اماں نے کہا کہ " جانے کتنے مہینوں بعد واپسی ہو ۔۔۔ میں نہیں جانے دوں گی ۔۔۔ چھوڑ دی باجی ۔۔۔اماں ہے تو سب ہے ۔"
(اتنے سالوں میں فائل واحد چیز تھی جو ساگر نے مانگی )
ساگر کی زبان میں جاوید میانداد جیسی ہکلاہٹ ہے مگر میاں صاحب کی نسبت دس فیصد ۔۔۔جسے ساگر بھائی بہت اچھے طریقے سے چھپا لیتے ہیں ۔ ایک تعلیم یافتہ شخص کی طرح سر اٹھا کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعتماد سے بات کرتے ہیں اور خاکروبی کے بعد دن میں شہر کے مشہور شاپنگ مال میں فلور انچارج کی حیثیت سے اپنا رزق کماتے ہیں ۔
یوم آزادی پر ایک الگ تھیلے میں زمین پر گری پڑی جھنڈیاں اور بیج جمع کرتے ہیں اور بعینہ اسی طرح بارہ ربیع الاول کے بعد جھنڈیاں اور " سرکار کی آمد مرحبا "...." جشن آمد رسول " کے بیج جمع کرتے ہیں اور یہ بیج لاکر ہمیں دے دیتے ہیں شاید اس لیے کہ پورے محلے سے روزگار ملنے میں ہمارا گھر وسیلہ بنا ۔۔ کسی گھر سے شادی کا کارڈ کچرے میں ملے تو ہمیں بڑی ناراضگی سے کہتے ہیں " یہ دیکھیں باجی ۔۔۔شادی کے کارڈ کچرے میں پھینکے جاتے ہیں کیا ! " اور ہر کارڈ بغور پڑھ کر "تسمیہ" کے ساتھ شفیق الرحمن کا " رحمنٰ" اور محمد ندیم کا " محمد الگ کرلیتے ہیں اس بات پر ان کی خفگی مزید بڑھ جاتی ہے ۔
چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے نرم لہجے میں پر خلوص انداز میں بات کرتے ہیں ۔ عزت دیتے ہیں اور عزت دینے پر مائل کر لیتے ہیں ۔ ایمان داری ، ذمہ داری اور فرض شناسی کی مثال ہیں ۔
ان کے متعلق ایک پوسٹ پہلے بھی شیئر کر چکی ہوں جس کا لنک کمنٹ میں دے رہی ہوں ۔




Facebook Comments