- Islamabad
- 23.2°C
- Today ( Sunday, 26 April 2026)
سلطانی گواہ / سید ماجد شاہ
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے
اسی کی کشت بیاں میں نم ہے
اسی کے لفظوں میں خوشہ خوشہ سنہری رنگت ابل رہی ہے
وہ لاکھ زم زم پکارتا ہے مگر یہ چشمہ فزوں سے بڑھ کراچھل رہا ہے
یہ کس کا دست کرم ہے ایسا
جو یوریا کی بھری ہوئی بوریاں الٹ کر
مرے ہی اعضا مرے مقابل بڑھا رہا ہے
یہ کون ہے جو مجھی کو مجھ سے لڑا رہا ہے
میں اب کٹہرے میں بے زبانی کی بیڑیوں میں
کسا ہوا ہوں
میں اپنے اعضا سے ہٹ کے اب بھی یہ سوچتا ہوں
کہ جب بھی اعضا پلٹ کے آئے
جو میں کہوں گا
وہی کریں گے
-
شعیب تاک رہا تھا، خاتون جب سامنے والی دوکان سے پلٹی۔ انڈوں کا بھاؤ پوچھا تو شعیب نے تین سو ستر روپے درجن بتایا۔ خاتون نے ساڑے تین سو کا مطالبہ کیا تو شعیب نے جھٹ سے "کوئی بات نہیں کہ کر" تھیلی تھما دی۔ حصہ دار نے کندھے اچکائے تو شعیب پیسے گنتے ہوئے بولا "گننے...
-
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھو...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments