- Islamabad
- 29.4°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
سلطانی گواہ / سید ماجد شاہ
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے
اسی کی کشت بیاں میں نم ہے
اسی کے لفظوں میں خوشہ خوشہ سنہری رنگت ابل رہی ہے
وہ لاکھ زم زم پکارتا ہے مگر یہ چشمہ فزوں سے بڑھ کراچھل رہا ہے
یہ کس کا دست کرم ہے ایسا
جو یوریا کی بھری ہوئی بوریاں الٹ کر
مرے ہی اعضا مرے مقابل بڑھا رہا ہے
یہ کون ہے جو مجھی کو مجھ سے لڑا رہا ہے
میں اب کٹہرے میں بے زبانی کی بیڑیوں میں
کسا ہوا ہوں
میں اپنے اعضا سے ہٹ کے اب بھی یہ سوچتا ہوں
کہ جب بھی اعضا پلٹ کے آئے
جو میں کہوں گا
وہی کریں گے
-
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے&... -
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی ت...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments