وہ کہہ رہا ہے

تمھارے اعضا

زبان پا کر

مخالفت میں

گواہی دیں گے

جو کر رہے ہیں

وہ سب کہیں گے

میں سوچتا ہوں

مخالفت میں جو بولتا ہے

اسی کے جبڑے کے بیلنے میں

زباں سلامت پڑی ہوئی ہے

اسی کی کشت بیاں میں نم ہے

اسی کے لفظوں میں خوشہ خوشہ سنہری رنگت ابل رہی ہے

وہ لاکھ زم زم پکارتا ہے مگر یہ چشمہ فزوں سے بڑھ کراچھل رہا ہے

یہ کس کا دست کرم ہے ایسا

جو یوریا کی بھری ہوئی بوریاں الٹ کر

مرے ہی اعضا مرے مقابل بڑھا رہا ہے

یہ کون ہے جو مجھی کو مجھ سے لڑا رہا ہے

میں اب کٹہرے میں بے زبانی کی بیڑیوں میں

کسا ہوا ہوں

میں اپنے اعضا سے ہٹ کے اب بھی یہ سوچتا ہوں

کہ جب بھی اعضا پلٹ کے آئے

جو میں کہوں گا

وہی کریں گے

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement