- Islamabad
- 34.4°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
- Home
- قانون سازی
- سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے: جسٹس اطہر من اللہ
سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے: جسٹس اطہر من اللہ
جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ آمریت میں گزری ہے، ڈکٹیٹر شپ میں آزادی اظہار رائے ممکن ہی نہیں۔ انھوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کردار کلیدی رہا ہے، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جج بنا تو پہلا کیس ضمانت کا آیا، بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے، جج کو آزاد ہونا چاہیے، جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا، عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے، بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں، وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔
-
ادب ایک کل وقتی عمل ہے جو مکمل وابستگی اور اخلاص کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ ادب کی کوئی بھی صنف ہو، تخلیق کار کی مکمل یکسوئی کے بنا کچھ ممکن نہیں۔ اور جب کسی ایسے تخلیق کار پہ بات ہو کہ جو بیک وقت کئی اصنافِ ادب میں خدمات سرانجام دے رہا ہو تو حیرت اور مسرت کے ملے جلے جذبات کا اظہا...
-
جرمنی نے حصولِ شہریت کے قوانین میں نرمی اور دوہری شہریت رکھنے پر پابندی ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔
اس قانون کے بعد لوگ اس وقت چھ یا آٹھ سال کے بجائے تین یا پانچ سال کے بعد "خصوصی انضمام کی کامیابیوں" کی صورت میں شہریت ح...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments