- Islamabad
- 24.4°C
- Today ( Sunday, 26 April 2026)
- Home
- مذہبی شاعری
- عشقِ سیدنا صدیق اکبر / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
عشقِ سیدنا صدیق اکبر / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
وقتِ بت شکنی ولایت تھی نبوت پر سوار
درحقیقت تھی ولایت کو یہ حرکت ناگوار
پر ولایت پہ کھلا ہے یہ نبوت کا مقام
آبجو ہے ہر گھڑی محتاجِ بحرِ بے کنار
لیک ڈھل جائے ولایت عشق کے سانچے میں جب
پھر نبوت کی نگہ میں ہے ولایت راہوار
جب رضا کے آئینے میں عشق ہو جلوہ فگن
یہ ولایت اور نبوت ہیں بلاشک رازدار
سرفرازی ہے ولایت ہو نبوت کی امام
اقتدا کر لے ولایت کی نبوت پُر وقار
جب ولایت انتہائے عشق کو کر لے عبور
جان تک بھی کر دے وہ شانِ نبوت پر نثار
جب فرید اک بوریا ہو زیب تن صدیق کے
عرشِ اعظم پر مناتا جشن ہے پروردگار
-
شعیب تاک رہا تھا، خاتون جب سامنے والی دوکان سے پلٹی۔ انڈوں کا بھاؤ پوچھا تو شعیب نے تین سو ستر روپے درجن بتایا۔ خاتون نے ساڑے تین سو کا مطالبہ کیا تو شعیب نے جھٹ سے "کوئی بات نہیں کہ کر" تھیلی تھما دی۔ حصہ دار نے کندھے اچکائے تو شعیب پیسے گنتے ہوئے بولا "گننے...
-
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھو...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments