وقتِ بت شکنی ولایت تھی نبوت پر سوار

درحقیقت تھی ولایت کو یہ حرکت ناگوار

پر ولایت پہ کھلا ہے یہ نبوت کا مقام

آبجو ہے ہر گھڑی محتاجِ بحرِ بے کنار

لیک ڈھل جائے ولایت عشق کے سانچے میں جب

پھر نبوت کی نگہ میں ہے ولایت راہوار

جب رضا کے آئینے میں عشق ہو جلوہ فگن

یہ ولایت اور نبوت ہیں بلاشک رازدار

سرفرازی ہے ولایت ہو نبوت کی امام

اقتدا کر لے ولایت کی نبوت پُر وقار

جب ولایت انتہائے عشق کو کر لے عبور

جان تک بھی کر دے وہ شانِ نبوت پر نثار

جب فرید اک بوریا ہو زیب تن صدیق کے

عرشِ اعظم پر مناتا جشن ہے پروردگار

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement