- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
- Home
- مذہبی شاعری
- عشقِ سیدنا صدیق اکبر / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
عشقِ سیدنا صدیق اکبر / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
وقتِ بت شکنی ولایت تھی نبوت پر سوار
درحقیقت تھی ولایت کو یہ حرکت ناگوار
پر ولایت پہ کھلا ہے یہ نبوت کا مقام
آبجو ہے ہر گھڑی محتاجِ بحرِ بے کنار
لیک ڈھل جائے ولایت عشق کے سانچے میں جب
پھر نبوت کی نگہ میں ہے ولایت راہوار
جب رضا کے آئینے میں عشق ہو جلوہ فگن
یہ ولایت اور نبوت ہیں بلاشک رازدار
سرفرازی ہے ولایت ہو نبوت کی امام
اقتدا کر لے ولایت کی نبوت پُر وقار
جب ولایت انتہائے عشق کو کر لے عبور
جان تک بھی کر دے وہ شانِ نبوت پر نثار
جب فرید اک بوریا ہو زیب تن صدیق کے
عرشِ اعظم پر مناتا جشن ہے پروردگار
-
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے&... -
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی ت...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments