- Islamabad
- 34.4°C
- Today ( Sunday, 26 April 2026)
- Home
- ملی و قومی شاعری
- قائد-ننگی تلوار / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
قائد-ننگی تلوار / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
کوئی ثانی نہیں تیرے کردار کا
یہ فسوں ہے تری شریں گفتار کا
عمر بھر تیرے دشمن کی کاوش رہی
راستہ روک لے ایسے سردار کا
خوابِ اقبال پورا نہ جو کر سکے
ایک گھاؤ ہے یہ ننگی تلوار کا
ہر جتن کر لیا اُس ریاکار نے
اسپ بڑھتا رہا آگے سالار کا
ہو کے مجبور خم کر لیا اُس نے سر
سرخمی میں بھی تھا راز عیار کا
کٹ گیا اُس کی سازش سے بازو*مرا
روپ گہنا گیا سارے گلزار کا
لا الٰہ کا عَلم پھر بھی لہرا گیا
یہ جنوں تھا فرید اُس کے افکار کا
*.سقوطِ ڈھاکا
-
شعیب تاک رہا تھا، خاتون جب سامنے والی دوکان سے پلٹی۔ انڈوں کا بھاؤ پوچھا تو شعیب نے تین سو ستر روپے درجن بتایا۔ خاتون نے ساڑے تین سو کا مطالبہ کیا تو شعیب نے جھٹ سے "کوئی بات نہیں کہ کر" تھیلی تھما دی۔ حصہ دار نے کندھے اچکائے تو شعیب پیسے گنتے ہوئے بولا "گننے...
-
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھو...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments