- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
- Home
- ملی و قومی شاعری
- قائد-ننگی تلوار / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
قائد-ننگی تلوار / مریدِ اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی
کوئی ثانی نہیں تیرے کردار کا
یہ فسوں ہے تری شریں گفتار کا
عمر بھر تیرے دشمن کی کاوش رہی
راستہ روک لے ایسے سردار کا
خوابِ اقبال پورا نہ جو کر سکے
ایک گھاؤ ہے یہ ننگی تلوار کا
ہر جتن کر لیا اُس ریاکار نے
اسپ بڑھتا رہا آگے سالار کا
ہو کے مجبور خم کر لیا اُس نے سر
سرخمی میں بھی تھا راز عیار کا
کٹ گیا اُس کی سازش سے بازو*مرا
روپ گہنا گیا سارے گلزار کا
لا الٰہ کا عَلم پھر بھی لہرا گیا
یہ جنوں تھا فرید اُس کے افکار کا
*.سقوطِ ڈھاکا
-
سنتے آئے ہیں
دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں
لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
یہ دیواریں
کیسے بلک کے روتی ہیں
کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ
کیسے دہائی دیتی ہے
دروازوں کی ...
-
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے<...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments