- Islamabad
- 23.8°C
- Today ( Sunday, 26 April 2026)
پسینے کی جھیل / شہزاد نیر
میں نے پیشانی کی شیلف خالی کر دی
تاکہ وہ ترتیب سے رکھ لے
اپنے تمام الزام
اس نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے
اور مجھ سے فائدہ اٹھا لیا
بھر گئے ہم دونوں
مفاد سے وہ
الزام سے میں!
بدنصیبی سے بڑا طعنہ
اور دولت سے بڑا تمغہ
کہیں دنیا میں ہو تو بتاؤ!
وہ میرے پسینے سے اپنا ظرف بھرتا ہے
میں سوکھنے لگوں تو لگا دیتا ہے
کسی اور کو پسینہ بہانے پر
زمین پر نہ انسان کم ہیں
نہ حرص کے برتن
یہ دنیا جھیل ہے
پسینے کے قطروں سے بنی جھیل
جس کے مالک وہ ہیں
جو خود پسینہ نہیں بہاتے!
-
شعیب تاک رہا تھا، خاتون جب سامنے والی دوکان سے پلٹی۔ انڈوں کا بھاؤ پوچھا تو شعیب نے تین سو ستر روپے درجن بتایا۔ خاتون نے ساڑے تین سو کا مطالبہ کیا تو شعیب نے جھٹ سے "کوئی بات نہیں کہ کر" تھیلی تھما دی۔ حصہ دار نے کندھے اچکائے تو شعیب پیسے گنتے ہوئے بولا "گننے...
-
ہجرت انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے، جو کبھی مجبوری، کبھی امید، اور کبھی بقا کے لیے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برسوں سے قائم انسانی روابط، ثقافتی یگانگت اور تاریخ کی گواہی دینے والے لاکھو...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments