- Islamabad
- 26°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پسینے کی جھیل / شہزاد نیر
میں نے پیشانی کی شیلف خالی کر دی
تاکہ وہ ترتیب سے رکھ لے
اپنے تمام الزام
اس نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے
اور مجھ سے فائدہ اٹھا لیا
بھر گئے ہم دونوں
مفاد سے وہ
الزام سے میں!
بدنصیبی سے بڑا طعنہ
اور دولت سے بڑا تمغہ
کہیں دنیا میں ہو تو بتاؤ!
وہ میرے پسینے سے اپنا ظرف بھرتا ہے
میں سوکھنے لگوں تو لگا دیتا ہے
کسی اور کو پسینہ بہانے پر
زمین پر نہ انسان کم ہیں
نہ حرص کے برتن
یہ دنیا جھیل ہے
پسینے کے قطروں سے بنی جھیل
جس کے مالک وہ ہیں
جو خود پسینہ نہیں بہاتے!
-
سنتے آئے ہیں
دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں
لیکن ان کا دل بھی ہوتا ہے
تم اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کے دیکھو
یہ دیواریں
کیسے بلک کے روتی ہیں
کہنہ سالی کے باعث چھکتی چوکھٹ
کیسے دہائی دیتی ہے
دروازوں کی ...
-
وہ کہہ رہا ہے
تمھارے اعضا
زبان پا کر
مخالفت میں
گواہی دیں گے
جو کر رہے ہیں
وہ سب کہیں گے
میں سوچتا ہوں
مخالفت میں جو بولتا ہے
اسی کے جبڑے کے بیلنے میں
زباں سلامت پڑی ہوئی ہے<...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments