- Islamabad
- 24.9°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے / ڈاکٹر دلدار احمد علوی
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے
میری مہجوری ءِ پیہم کابھی درماں یا رب
قافلے شوق کے اسرارِ نہاں تک پہنچے
حوصلے نے گل و گلزار کیا صحرا کو
پاؤں ہمت کے سرِ کوہستاں تک پہنچے
مر گئے گھٹ کے دم اپنے ہی نہاں خانے میں
دل کے ارمان بہت کم ہی زباں تک پہنچے
پیار کہتے ہیں جسے نام ہے قربانی کا
وہ تجارت ہے کہ جو سود و زیاں تک پہنچے
اتنا آسان نہ تھا عشق کی منزل کا سفر
زندگی ہم نے لٹائی تو یہاں تک پہنچے
تو نے جو آگ لگائی تھی مرے آنگن میں
اس کے شعلے ہیں جو یہ تیرے مکاں تک پہنچے
میرا کردار بھی ہے گردشِ ایام کے ساتھ
بے سبب نغمے نہیں آہ و فغاں تک پہنچے
زندگی پھونک چکی آتشِ فرقت دلدار
آگے یہ دشمنِ جاں جانے کہاں تک پہنچے
-
سیمیں کرن مشہور معروف کہنہ مشق افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار ہیں ۔
سیمیں کرن نے اپنا تازہ ترین ناول " اک معدوم کہانی ،" مجھے کچھ دن پہلے بھیجا ۔۔میری تسائل پسند طبیعت سے وہ کچھ کچھ واقف بھی ہیں اس لئے تین چار دن قبل مسیج کر کے ناول کے بارے میں ابت...
-
وہ نابینا تھی۔ لیکن اس کے پاس سفید چھڑی کی بجائے کیمرہ ہوتا تھا۔
اچھے لوگ جو دوسروں پر ہنستے نہیں ہیں اور دوسروں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔وہ ہمدردی جتاتے ہوئے اس سے کہتے کہ وہ سفید چھڑی ضرور پاس رکھا کرے۔اس سے راستے کی مشکلات میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور دیکھنے والے لوگ ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments