- Islamabad
- 27.7°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے / ڈاکٹر دلدار احمد علوی
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے
میری مہجوری ءِ پیہم کابھی درماں یا رب
قافلے شوق کے اسرارِ نہاں تک پہنچے
حوصلے نے گل و گلزار کیا صحرا کو
پاؤں ہمت کے سرِ کوہستاں تک پہنچے
مر گئے گھٹ کے دم اپنے ہی نہاں خانے میں
دل کے ارمان بہت کم ہی زباں تک پہنچے
پیار کہتے ہیں جسے نام ہے قربانی کا
وہ تجارت ہے کہ جو سود و زیاں تک پہنچے
اتنا آسان نہ تھا عشق کی منزل کا سفر
زندگی ہم نے لٹائی تو یہاں تک پہنچے
تو نے جو آگ لگائی تھی مرے آنگن میں
اس کے شعلے ہیں جو یہ تیرے مکاں تک پہنچے
میرا کردار بھی ہے گردشِ ایام کے ساتھ
بے سبب نغمے نہیں آہ و فغاں تک پہنچے
زندگی پھونک چکی آتشِ فرقت دلدار
آگے یہ دشمنِ جاں جانے کہاں تک پہنچے
-
تاج برطانیہ کا ملازم جی پی ٹینٹ اپنی کتا ب ”افغانستان تاریخ کے آئینے میں“ جس کا اُردو ترجمہ ارشد عزیز نے کیا ہے کہ لکھتا ہے کی افغان نہات جری اور جفاکش باشندے ہیں۔ان میں قوم پرستی اور اپنی مذہب سے لگن اور محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔افغان قدرتی طور پر آز...
-
اردو شعری روایت کے آغاز و ارتقا میں حضور صلاۃ والتسلیم کی نعت کو ہمیشہ تقدیم حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتاََ مجموعہ ہائے نعت کے علاوہ دیگر شعری اصناف کا آغاز بھی حمد و نعت سے کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مسلم اردو شعرا کے ہاں بھی یہ روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ بھی آقائے دو...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments