- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے / ڈاکٹر دلدار احمد علوی
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے
میری مہجوری ءِ پیہم کابھی درماں یا رب
قافلے شوق کے اسرارِ نہاں تک پہنچے
حوصلے نے گل و گلزار کیا صحرا کو
پاؤں ہمت کے سرِ کوہستاں تک پہنچے
مر گئے گھٹ کے دم اپنے ہی نہاں خانے میں
دل کے ارمان بہت کم ہی زباں تک پہنچے
پیار کہتے ہیں جسے نام ہے قربانی کا
وہ تجارت ہے کہ جو سود و زیاں تک پہنچے
اتنا آسان نہ تھا عشق کی منزل کا سفر
زندگی ہم نے لٹائی تو یہاں تک پہنچے
تو نے جو آگ لگائی تھی مرے آنگن میں
اس کے شعلے ہیں جو یہ تیرے مکاں تک پہنچے
میرا کردار بھی ہے گردشِ ایام کے ساتھ
بے سبب نغمے نہیں آہ و فغاں تک پہنچے
زندگی پھونک چکی آتشِ فرقت دلدار
آگے یہ دشمنِ جاں جانے کہاں تک پہنچے
-
چوک میں جہاز کی ڈمی نصب کی جا چکی تھی۔لڑکی نے چوک سے یو ٹرن لینے کے لیے گاڑی کی رفتار آہستہ کی۔جب گاڑی چوک سے نیم دائرہ بنا کر مڑ رہی تھی تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے، لمبے بالوں والے لڑکے نے کہا،”میں ایک منتر نما ایکویشن سے یہ جہاز اڑا سکتا ہوں۔“
لڑکی نے کنکھ...
-
پچھلے سال اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ اچانک سیر و تفریح کا پروگرام بن گیا تھا۔ اُس سال وادی کمراٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ نہایت حسین وادیاں ، ٹھنڈے پانی کے چشمے۔ اس کا احوال آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کرچکا ہوں۔
اس کے بعد سے پورا سال بیگم صاحبہ کی جانب سے یہ محبت بھرا گلہ سن...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments