- Islamabad
- 25.5°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
پیاس کی بغاوت / شاہ روم خان ولی
وہ رقاصہ ہے
مطربہ ہے
اور بلا کی حسین اور تند خو ہے
اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا
ہنر تو آگیا ہے لیکن
محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا
ابھی اس نے نہیں سیکھا
ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف
مگر وہ نظم کم اور
زائچے کچھ زیادہ ہی بناتی ہے
اسے فطرت کی رنگینی لبھاتی ہے
بدن کی پیاس اس کو بھی لگتی ہے یقینا
وہ ترستی ہے
ترستی ہے وہ لمس کی حدت کو لیکن
اسے دولت سے شہرت سے جو راحت مل رہی ہے
اسے اپنا اثاثہ جان بیٹھی ہے
اسے معلوم ہی کب ہے
حقیقی سرخوشی چاہت کے وجودِ دلربا سے ہے
وفا سے ہے
یہاں جو پیاس ہے
وہ آس ہے
اور اس پیاس کا انساں سے روٹھ جانا
زوالِ آدمیت کے سوا کچھ بھی نہیں
-
پھر کوئی بانگِ درا خوابِ گراں تک پہنچے
کوئی آواز دروں خانہ ءِ جاں تک پہنچے
شرق تا غرب ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“
اُس تبسم کی جھلک قلبِ تپاں تک پہنچے
کھل اٹھے غنچہ ءِ دل مشک جہاں تک پہنچے&... -
بے رخی تلخ لگ رہی ہے مجھے
زہر سی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کون جانے کہ زندہ ہو کر بھی
زندگی تلخ لگ رہی ہے مجھے
کیا کہوں مفلسی کے بارے میں
بس بھئی تلخ لگ رہی ہے مجھے
بس مرا سب پہ چل رہا تھا کیا؟
بے بسی ت...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments