وہ رقاصہ ہے

مطربہ ہے

اور بلا کی حسین اور تند خو ہے

اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا

ہنر تو آگیا ہے لیکن

محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا

ابھی اس نے نہیں سیکھا

ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف

مگر وہ نظم کم اور

زائچے کچھ زیادہ ہی بناتی ہے

اسے فطرت کی رنگینی لبھاتی ہے

بدن کی پیاس اس کو بھی لگتی ہے یقینا

وہ ترستی ہے

ترستی ہے وہ لمس کی حدت کو لیکن

اسے دولت سے شہرت سے جو راحت مل رہی ہے

اسے اپنا اثاثہ جان بیٹھی ہے

اسے معلوم ہی کب ہے

حقیقی سرخوشی چاہت کے وجودِ دلربا سے ہے

وفا سے ہے

یہاں جو پیاس ہے

وہ آس ہے

اور اس پیاس کا انساں سے روٹھ جانا

زوالِ آدمیت کے سوا کچھ بھی نہیں

You Might Also Like

Get Newsletter

Advertisement