تازہ ترین
ڈھلتا سورج / قاضی عارف حسین انجم
لیجئے صاحب عمر تمام ہو رہی ہے ،سورج ڈھل چکاکی دھوپ ختم ہوئی ،شام کی چاشنی بھی رات کے اندھیارے میں گھلنے کو ہے وہ سفر جس کا 8اکتوبر1945 کو آغازہواتھا ،ختم ہوا چاہتا ہے ۔اس دوران کتنے ہی پڑاؤآئےئ دَم لینے کو ٹھہرے اور پھر آگے بڑھنے کو تیار ۔ہر منزل پر کئی ساتھی بچھڑے ، نئے شامل ہوئے ۔دادی جان ، بوا، بابو جی ، چچا شریعت اللہ ، میرے بابا قاضی ناطق حسین کے بغیر زندگی اندھیر ہو کر رہ گئی تھی ،یہ 24جنوری1966 کی صبح سویرے کی بات ہے ابھی فجر کی اذان نہیں ہوئی تھی وہ جمعہ کادن تھا اور عید کا بھی ، پاپا نے آنکھ بند کرنے سے پہلے مجھے سمجھا دیا تھا ۔یار !آج عید ہے لوگوںکی عید خراب نہ کرنا ، عید پڑھنے کے بعد جنازے کی تیاری کرنا ، میں نے احتیاط کی پھر بھی جنازہ بہت بڑا تھا ،پاپا چلے گئے مگر زندگی چلتی رہی ہم چار بھائی تھے بس میں ہی بڑا تھاباقی تینوں چھوٹے ۔امّی کے حوصلے نے ہمیں سنبھالے رکھا ۔ہم چاروں کی یکے بعد دیگرے شادیاں کیں ، ہم چاروں بھائی صاحب اولادہو گئے تو وہ بھی دسمبر2000 کی ایک صبح اپنی منزل کی جانب ہم سے رخصت ہو گئیں ۔راولپنڈی کے جدید قبرستان میں شاہ کی ٹاہلیاں کے پیچھے پاپا، امّی ، نانا ابّا، نانی امّاں ، خالوصاحب ، خالہ جان اپنی محفل جمائے ہوئے ہیں ۔کتنے منظر ہیں جو آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ۔کتنی یادیں ہیں جو محوہو گئیں ، کتنے ہی دوست ساتھی پرائمری ، ہائی سکول اور کالج یونیورسٹی کے ہم راہی اب نظر نہیں آتے لیکن ہمارے ذہن سمندر میں ان کی یادیں کبھی کبھار ہل چل مچادیتی ہیں ۔ہمارے دوست سیّدضامن علی شاہ کو کراچی پولیس کے اعلیٰ پولیس آفیسرنے گھر میں گھس کر گولی مار ی۔ ضامن علی شاہ کا کیاقصور تھایہ تو ہمیں معلوم نہیں لیکن پروفیسر عبدالغفور کاوہ اخباری بیان آج بھی ہماری نظروں میں سمایا ہواہے جوکچھ یوں تھا’’کتنے ضامن مارو گے ہر گھر سے ضامن نکلے گا‘‘۔یہ غالباً1971 کے آغازکی بات ہے ،پھر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ۔ پروفیسر عبدالغفور بھی ماضی کے قبرستان میں جاسوئے ،وہ اپنی کتابوں میں زندہ ہیں ۔اگرچہ اُن کا کہا ہوا فقرہ ’’کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹونکلے گا ‘‘کی صور ت گونجتارہتا ہے ۔90 ہزار قیدیوں کورہائی دلوانے والا بھٹو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ، لوگ گھروں سے نہیں نکلے ۔یہ الگ بات کہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں سے بھٹو ابھی تک نہیں نکلا، حالانکہ بھٹو دشمن لابی نے اس کے دونوں بیٹوں اور بیٹی کولہولہان کر دیا۔ تاریخ کا سفرجاری ہے،زندگی رواں دواں ہے لیکن میں اپنے اِن آخری دِنوں میں بھی اپنے ماموں قاضی ذوالفقار علی کویادکر رہاہوں جن کو لاہور پولیس نے سروسز ہسپتال کے ڈاکٹروں کے سامنے مار ڈالاتھاآج تک اُن کے قاتل نہیں پکڑے گئے حالانکہ قاتل پولیس والوں کے نام اخبارات میں شہ سرخیوں میں موجود تھے ۔ہمارا گھرانہ علم وادب کادیوانہ رہا ہے ، ہم بھی ساری زندگی پڑھنے پڑھانے ، لکھنے لکھانے میں لگے رہے لیکن اب میں سوچتاہوں کہ زمانے کا اب وہ رنگ نہیں رہا۔ یہ عالموں کا نہیں جعل سازوں کادور ہے ۔کرائے کے قاتلوں کاہی نہیں کرائے کے لکھاریوں کا راج ہے، کتابیں لکھی نہیں لکھوائی جاتی ہیں۔ معروف لکھاری بھی اکثر و بیشتر اس لیے لکھتے ہیں کہ حقیقتوں کوچھپایا جائے اور جھوٹ کو پھیلایاجائے ۔ ’’شہاب نامہ‘‘ اس کی ایک چوٹی کی مثال ہے۔ بات کسی اور طرف نکل گئی میں ’’ہڈ بٹی ‘‘بیان کرناچاہ رہاہوں ۔ابھی چند ماہ پہلے 22اپریل کی بات ہے میں ایک آپریشن سے گذررہا تھا۔برگیڈیئر عظیم نے میری سرجری کی 26اپریل کوگھرلوٹ کے آیا،آئینہ دکھائی پڑاتوشکل پہچانی نہیں جا رہی تھی ۔ نظروں کے سامنے ایک اجنبی کھڑاتھا۔بہت عرصہ پہلے کاپڑھاہوامعروف محقق مگر گم نام شاعر ڈاکٹر گیان چندجین کا شعر ذہن میں گونجنے لگا یہ کیسا آئنہ ہے ؟اس میں دیکھتا ہوں جب کوئی خبیث سابوڑھادکھائی دیتا ہے لیکن مجھے تو اپنے چہرے پر داڑھی اچھی لگی ۔ اسی دن 26اپریل کومعلوم ہواکہ اب ہم چار نہیں تین بھائی رہ گئے ہیں۔میرا پیارا بھائی قاضی آصف حسین 22اپریل کو میرے آپریشن والے دن ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، وہ میرا بہت پیارا بھائی تھا، میرادوست تھا ، ساتھی تھا ، ہم نواتھا، ہم رازتھا۔ بہت دلیر اور بے باک تھا۔ سربزم سچّی بات کرتاتھا۔اسکے بارے میں اُسکی شاعری پر اس کی شخصیت پر اگر زندگی نے وفا کی تو جم کر لکھوں گاگو اس کا بھرپور تذکرہ اپنی خودنوشت میں کر چکاہوں مگر یہ اس کی زندگی کی بات ہے ، اب وہ نہیں ہے ، اس کی یادیں ہیں ، میں محتاط تھاوہ اپنی تعریف پسند نہیں کرتا تھا،میں وہ کچھ نہیں لکھ سکاجو لکھنا چاہتاتھا ۔ لیجئے میں پھر کسی اور طرف نکل پڑا ۔ شاہجہاں نے اپنی پیاری بیوی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں دنیا بھر کے اہل ِدل کو ’’تاج محل‘‘ جیسا خوبصورت تحفہ پیش کیا تھا ۔تاج محل جسکاتصوّربھی اہل ِمحبت کی آنکھوں میں ’’جِھلملاتے ‘‘موتی بھر دیتاہے ۔میں بھی چاہتاہوں کہ مرنے سے پہلے ایک خوبصورت کتاب کی شکل میں اپنی پیاری سی بیوی کو اپنی خود نوشت کا تحفہ دے جاؤں ۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے محبت جیسی انمول دولت دے رکھی ہے ۔میں تو اپنی خود نوشت کادیباچہ بھی لکھنا چاہتاہوں مگر لکھ نہیں پا رہا۔ کیسے شروع کروں؟ کہاں سے شروع کروں؟ سرا کہیں سے تو پکڑنا ہے، پکڑا نہیں جا رہا۔ میراگھر میراپاکستان اسوقت افراتفری کا، نفسانفسی کا، خود غرضی کا، مفاد پرستی کاشکار ہے 1971 کے بعد ایک دفعہ پھر 1971 کانقشہ بنتادکھائی دے رہا ہے۔ اللہ نہ کرے تقسیم پاکستان کانیاایڈیشن سامنے آئےے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے مرکز کی جب تان ٹوٹتی ہے ،بلوچستان پر ٹوٹتی ہے۔ طالبان سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پڑوسیوں سے لاگ ڈانٹ جارہی ہے مگر اب پڑوسی کہاں رہے ہیں۔ پڑوسیوں کو ’’ہم سایہ‘‘ کہا جاتا ہے جودکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں مگر اب ہمسائیگی کہاں رہی ہے۔ اب توپڑوسیوں کانام بھی کوئی نہیں جانتا۔حضرت موسیؑ آگ لینے طور پر گئے تھے ،پیغمبری مل گئی تھی۔ ہمارابچپن تھااور ہمارے پڑوسی وقت پڑنے پر اگر چولھا ٹھنڈا پڑ جائے تو ایک دوسرے کے گھروں سے آگ لے آتے تھے مگر اب ایک دوسرے کے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں ۔ایک دوسرے کے بچوں کواغوا کر رہے ہیں کبھی ایک دوسرے پر جان دیتے تھے اب لالچ کی خاطر جان کے درپے ہوچکے ہیں آپ نے وہ شعر تو سناہوگا۔سبط علی صباکاشعر ؎ دیوار کیاگری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے میں آپ کو اسی شاعر کاایک اورشعر سناتاہوں پڑوسیوں کے بھی آخر حقوق ہوتے ہیں اسی حوالے سے گھر کی قیادتیں دیکھوں کیالوگ ہیں ہم بھی ،پڑوسیوں سے دشمنی ، جنگ وجدل، بیگانوں سے یاری۔ کہاں بھارت ، افغانستان ، ایران ، روس اور چین اور کہاں امریکہ بہادر ۔چین سے توخیر ہماری دوستی ہو گئی مگر اب وہ بھی شکوک وشہبات کے سائے میں ہے ۔اندرون خانہ کبھی ہم ایک تھے مگر اب بکھر چکے ہیں ۔بنگالی پنجابی کازمانہ تو لَد چکا مگر اب صوبہ پرستی اور فرقہ بندی نے کئی نئے چولے پہن لیے ہیں ۔ پہلاکلمہ طیّب ۔طیّب معنی پاک ۔لاالہ الااللہ. اللہ ایک، علاقہ ایک، پاک چین ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ مسلم انڈیاسے پاکستان تک ۔چوہدری رحمت علی نے نام رکھا تھا۔’’پاک ستان‘‘ جو پاکستان ہوگیا۔اب کئی برس ہو گئے اللہ رکھے پاکستان کو۔ یہاں کی ہر چیز پاک ہو کر رہ گئی ہے ؎ دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے





Facebook Comments