تازہ ترین
کراچی سے کالام تک / عامر انور
پچھلے سال اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ اچانک سیر و تفریح کا پروگرام بن گیا تھا۔ اُس سال وادی کمراٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ نہایت حسین وادیاں ، ٹھنڈے پانی کے چشمے۔ اس کا احوال آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کرچکا ہوں۔
اس کے بعد سے پورا سال بیگم صاحبہ کی جانب سے یہ محبت بھرا گلہ سن سن کر کان پک گئے کہ خود تو گھوم آئے اور ہمیں نہ لے کر گئے۔ ٹال مٹول کرتا رہا لیکن اس سال چھٹیوں میں بچوں اور ان کی ماں نے مل کر پی ڈی ایم کی طرز پر متفقہ محاذ بنا کر چڑھائی شروع کردی۔
گھر کی مرمت کی وجہ سے بجٹ پہلے ہی آؤٹ ہوچکا تھا لیکن آخر کار ان کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے اور عید کے دوسرے دن نکلنے کا پروگرام بنایا۔
تیاریاں ، شاپنگ سب مکمل کرکے بیگم اور بچے عید سے زیادہ اس سیر و تفریح کے پروگرام کا انتظار کررہے تھے۔
بڑے بیٹے کی یونیورسٹی کی چھٹیاں جلد ختم ہونے کی وجہ سے پروگرام صرف 8 دن کا بنایا تاکہ پڑھائی کا حرج نہ ہو۔
تاہم ایک دن کی تاخیر سے یعنی عید کے تیسرے دن گھر سے روانگی ہوئی ۔ دوسرے دن کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی حیدرآباد کا ایک ٹریک پانی آنے کی وجہ سے بندکردیا گیا تھا۔ سو پہلے تو یہی خیال آیا کہ پورے پاکستان میں بارشوں کی وجہ سے پروگرام ملتوی کردیا جائے لیکن ہماری اس تجویز پر بیگم بچوں نے ایسا شدید ردعمل دیا جیسے نیازی صاحب کی انتخابات کروانے کے مطالبے پر پی ڈی ایم چیختی ہے۔۔
بہرحال تیسرے دن صبح نماز فجر کے بعد نکلنے کا پروگرام بچوں کے رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کی وجہ سے 9 بجے شروع ہوا ۔ ہم ٹنکی فل کرواکر ، اپنے ٹائرز کی ہوا برابر کرواکے دس بجے کراچی ٹول پلازہ سے ٹکٹ تھامتے ہوئے عازم سفر ہوئے۔۔۔ سفر کی دعا آیت الکرسی اور دیگر دعائیں پڑھیں۔۔۔
موسم حبس زدہ تھا لیکن بارش نہیں ہورہی تھی۔ ہم اپنی SUV کی لانگ ڈرائیو کو انجوائے کرتے ہوئے بچوں اور بیگم کے ساتھ گپ شپ بھی لگا رہے تھے۔ اس مرتبہ میں نے یہ شرط رکھی تھی کہ سفر کے دوران بچے موبائل کم سے کم استعمال کریں گے اور سفر کے دوران آنے والے خوشگوار نظاروں سے لطف اندوز ہوں گے۔ عید کی تعطیلات کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک بہت کم تھا جس کی وجہ سے سفر مزید آسان ہوگیا تھا۔ حیدرآباد کراس کرکے ہم مٹیاری اور ہالہ کی جانب بڑھ گیے۔ یہاں سے سرسبز کھیتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
شہر میں رہنے والے ان سرسبز کھیتوں کی خوبصورتیوں کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں کمپنی دینے کے لیے بیگم صاحبہ آگے براجمان تھی جب کہ دونوں بیٹے ہماری پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب کہ مزدلفہ بیٹی نے فرمائش کرکے اس سے پچھلی سیٹ پر اکیلے بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
راستے میں بچے گانے لگاتے رہے جس سے ہم بڑھتی عمر کے باوجود خود کو لڑکا لڑکا محسوس کررہے تھے۔ کبھی ہم دیکھتے کہ ٹریفک کا بہاؤ بالکل ہی نہ ہونے کے برابر ہے تو ہم باقاعدہ دھمال ڈالنے لگ جاتے۔ آج کل کا جدید میوزک 90 کی دہائی کے میوزک کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ ہماری بیگم نے ایک دو مرتبہ اس گولڈن ارا کے گانے لگائے تو بچوں نے ایسے احتجاج کرنا شروع کردیا جیسے نیازی صاحب ممنوعہ فنڈنگ کیس کا نام سن کر کرتے ہیں۔
بچے اپنے دور کا میوزک پلے کرتے تو کوئی دس میں سے ایک گانا دل کو لگتا۔ اس کشمکش میں آخر بڑوں اور بچوں میں یہ طے پایا کہ موجودہ پنجابی گانے لگائے جائیں جو ہم دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہوں ۔ سو اس کے بعد دور جدید کے نامور گلوکار ستندر، جسمانک اور ان جیسے مزید گلوکاروں کا انتخاب کرکے ان کے گانے سنے گئے۔۔
ہم نے بھلے ساری زندگی کراچی میں گزار دی لیکن بھنگڑا اسٹائل کا گانا سن کر ہمارے اندر کا پنجابی جاگ جاتا ہے اور ہم زیادہ جوش میں آئیں تو سیٹ سے کوئی آدھا فٹ اونچا اچھلنا بھی شروع کردیتے ہیں۔۔۔
اسی طرح ہنستے ہنساتے ہم مورو پہنچ گئے۔ یہ میری عادت ہے کہ جب بھی کراچی سے پنجاب کا سفر کروں تو مورو پر رک کر تاج ہوٹل پر کھانا کھاتا ہوں ۔ اس کی وجہ اس ہوٹل کی صفائی ، کھانے کا معیار اور عمدہ ماحول ہے۔ یہاں رک کر ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ مٹکا مٹن بریانی منگوائی اور ساتھ بون لیس چکن ہانڈی۔ کھانے سے فراغت کے بعد چاہے پی۔ کڑک چائے پی کر طبعیت ہشاش بشاش ہوگئی۔ مورو میں موسم شدید گرم تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر دوبارہ اے سی آن کیا تو گاڑی کے اندر سورج کی تمازت سے ہونے والی گرمی کو دور ہونے میں کچھ وقت لگا۔
سڑک پر رش نہ ہونے کی وجہ سے سفر تیزی سے طے ہورہا تھا۔ کنڈیارو ، رانی پور سے ہوتے ہوئے سکھر پہنچ گئے۔ سکھر کھجور کے باغات اور اس کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ جب آپ کو کھجوروں کے درخت نظر آنا شروع ہوجائیں تو سمجھ جائیے کہ آپ سکھر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہاں سڑک پر آپ کو جابجا لکڑی کی عارضی دکانیں نظر آئے گی جہاں سندھ دھرتی کی ثقافت کا عکاس سندھی ٹوپی ، اجرک اور بچوں اور خواتین کی مخصوس پھول والی کڑاہی شدہ قمیضیں نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی فروٹ والے بھی روڈ کنارے کھڑے نظر آتے ہیں۔۔۔ سکھر سے موٹر وے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے اس قدر اہم عوامی منصوبے موٹر وے کی سکھر سے حیدرآباد تقریباً 400 کلومیٹر کے ٹریک کو نظر انداز کیا۔ حالانکہ اس کی زمین کی خریداری سے لے کر سب کام ہوچکا ہے۔
اس نامکمل موٹر وے کی وجہ سے حیدرآباد سے سکھر آنے میں 4 سے 5 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اگر موٹر وے مکمل ہوجائے تو یہ سفر صرف دو سے ڈھائی گھنٹے کا رہ جائے گا۔۔۔
سکھر سے موٹر وے چڑھتے ہی آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی اور ہی دنیا میں آگئے۔۔۔ تین رویہ موٹر وے جس کی اسپیڈ لمٹ 120 چھوٹی گاڑی اور بڑی ٹریفک کے لیے 110 رکھی گئی ہے۔ ہم۔ جب موٹر وے چڑھے تو 6 بج چکے تھے ۔ اگر آپ پہلی مرتبہ موٹر وے پر جائیں تو کوشش کیجیے کہ دن کا سفر کریں۔ ایک تو موٹر وے کے دونوں اطراف ہری بھری کھتیاں آپ کی آنکھوں اور ذہن دونوں کو پرسکون رکھتی ہیں۔ دوسرا آپ موٹر وے کو دن کی روشنی میں مکمل طور پر دیکھ کر زیادہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہاں بڑے رسیٹ ایریاز کے ساتھ ساتھ چھوٹے ریسٹ ایریاز بھی آتے ہیں۔ پٹرول پمپز کھل چکے ہیں۔ اور ان پر اچھی قسم کی فوڈ چین بھی آپ کو مل جائے گی.
یہاں ریسٹ ہاؤس پر اس مرتبہ واش رومز کا معیار دیکھ کر دلی صدمہ ہوا۔ جو ہمیشہ صاف ستھرے ہوتے تھے اس مرتبہ یہاں بدبو دار ماحول ملا۔ صابن اور سوپ بھی غائب تھا. یہ تو شکر ہے کہ بیگم صاحبہ نے لکویڈ سوپ کا ڈبہ ساتھ رکھا ہوا تھا تو گزارا ہوگیا۔ اس بدمزہ تجربے کے بعد ہم نے آگے موٹر وے پر پٹرول پمز پر بنے ایگزیکٹو واش رومز استعمال کیے۔ ان کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ صاف ستھرے ماحول کی وجہ سے پیچھے ہونے والی بدمزہ صورتحال کا ازالہ ہوا ۔ ان ایگزیکٹو واش روم کی فیس لی جاتی ہے لیکن اس کا معیار دیکھ کر ادا شدہ پیسے وصول ہوجاتے ہیں۔۔۔۔
ملتان تک پہنچتے ہوئے اندھیرا کافی گہرا ہوچکا تھا۔ ملتان کے بعد موٹر وے کچھ سکڑ سی جاتی ہے۔ اور مزید آگے جاکر لاہور اور فیصل آباد کے راستے جدا ہوجاتے ہیں ۔ ہماری منزل چونکہ فیصل آباد تھی تو ہم فیصل آباد کے راستے پر ہوگئے۔
ہمارا آبائی تعلق فیصل آباد سے ہے۔ اگرچہ زندگی کے ماہ و سال کراچی میں گزر گئے لیکن والد صاحب چونکہ ریلوے میں ملازم تھے اور سفری سہولت مفت حاصل ہونے کی وجہ سے بچپن سے ہی یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔
بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں والدہ مرحومہ کے ساتھ یہاں آتے۔ اب ہمیشرہ کی یہاں شادی کے بعد اس شہر سے سلسلہ مزید مضبوط ہوگیا۔ موٹر وے کا سفر جہاں بہت پرسکون اور سہل ہوتا ہے وہاں آپ مسلسل گاڑی چلاتے ہوئے بوریت کا شکار بھی ہوجاتے ہیں. نئے چلانے والے ایک چیز کا خیال رکھیے کہ ہموار کارپیٹنگ کی وجہ سے آپ گاڑی چلاتے ہوئے کھلی آنکھ سے سو بھی جاتے ہیں. اس لیے اگر ذرا سی بھی تھکن محسوس کریں تو قریبی ریسٹ ہاؤس پر رک کر سیٹ پیچھے کرکے پندرہ بیس منٹ آنکھیں موند کر آرام کیجیے ۔ اس مشق سے آپ کم از کم دو سے تین گھنٹے کے لیے بالکل چارج ہوجاتے ہیں۔۔۔
پنجاب میں بھی شدید گرمی کا احساس ہورہا تھا۔ حبس زدہ موسم تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اے سی سے گرمی کی شدت کم ہوتی ۔ رات کو 1 بجے ہم موٹر وے سے اتر کر فیصل آباد شہر میں داخل ہوئے۔۔۔ پاکستان کا مانچسٹر کہلانے والا شہر ہمارے بچپن کے مقابلے میں بہت تبدیل ہوچکا ۔ چھوٹا اور خوبصورت شہر ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آئیں۔ لیکن ان سڑکوں کو کشادہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا ہے۔
رات کو جب بہنوئی کے گھر پہنچے تو باجی ، بہنوئی اور بچے ہمارے منتظر تھے۔ ہمارے بہنوئی نیا مکان بنوارہے ہیں تو اس دوران وہ گرگئے تھے جس کی وجہ سے وہ تکلیف میں تھے۔ ہمارا پہلے پروگرام یہ تھا کہ ہم واپسی پر فیصل آباد رکیں گے لیکن اس وجہ سے ہم پہلے فیصل آباد آگئے تاکہ ان کی عیادت کی جاسکے۔
تھکن کا غلبہ حاوی تھا۔ بس سلام دعا کرکے سب بستر پر لیٹتے ہی خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ ہم نے بھی خیریت سے پہنچنے پر خدا کا شکر ادا کیا ۔
صبح آنکھ کھلی تو بدن کی سب تھکاوٹ دور ہوتی محسوس ہوئی ۔ بچے اب تک سوئے ہوئے تھے۔ ہم نے کراچی سے فیصل آباد تک کے سفر میں پٹرول کا حساب لگایا تو 100 لیٹر پٹرول لگا۔ کل فاصلہ کراچی سے فیصل آباد کا 1000 کلو میٹر ہے۔ ان دنوں میں پٹرول 250 روپے لیٹر تھا تو سمجھیے کہ 25 ہزار روپے میں ہم پانچ افراد پنجاب تک پہنچے. یہ حساب ان دوستوں کے لیے لکھا ہے جو اپنی گاڑی پر پہلی مرتبہ پنجاب آنا چاہے تو انہیں اندازہ رہے کا کتنا پٹرول درکار ہے۔۔
اگلی صبح کے سورج نے اپنی تپش سے بتایا کہ گرمی جوبن پر ہے۔ ہم حیران تھے کہ کراچی میں بتایا جارہا تھا کہ بارشوں کی کثرت کی وجہ سے پنجاب کا موسم خوشگوار ہے۔
اس بابت بہن سے تصدیق چاہی تو کہنے لگی کہ اب دو تین دن سے بارش نہیں ہورہی تو اس وجہ سے موسم دوبارہ گرم ہوگیا ہے۔ جون جولائی اور اگست تین ایسے مہینے ہوتے ہیں جب پنجاب میں شدید ترین گرمی ہوتی ہے۔ اس مہینے میں پنجاب کے موسم کو جھیلنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔۔۔ یہ تو شکر ہے کہ اے سی کی وجہ سے اس گرمی کا مقابلہ ہوجاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ آپ جب باہر نکلے گے تو آپ کو اس گرمی کو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔
ایک دن مزید فیصل آباد رکے۔ یہاں قریبی عزیزوں سے ملاقات کی۔ رات کو بچوں کو تاکید کی کہ جلدی سوجائیں تاکہ ہم سوات کا سفر صبح سویرے شروع کرسکیں۔ لیکن جب کزنز ایک ساتھ ہوں تو کیسا سونا۔ بس پوری رات جاگتے رہے اور صبح نماز پڑھ کر سب سونے لیٹ گئے ۔ غصہ تو بہت آیا لیکن غصے کو پینا پڑا کیونکہ ہم نہیِں چاہتے تھے کہ بچوں کا سیاحتی پروگرام ہماری سختی کی نظر ہو۔
دوپہر بارہ بجے ہم فیصل آباد سے بذریعہ اسلام آباد موٹر وے سوات کی جانب روانہ ہوئے۔ بس موسم کا خدشہ تھا کہ کہیں بہت زیادہ بارشیں سفری مشکلات کا سبب نہ بن جائیں۔ سوات کے رہائشی ہمارے ازحد عزیز فیس بک کے دوست اور خوبصورت نثر نگار اشفاق صاحب سے موسم کی بابت جانکاری لی۔ انہوں نے مکمل اطمینان دلوایا کہ موسم ٹھیک ہے۔ آپ بےفکر ہوکر سفر کا قصد کیجیے۔ وہ خود مصروفیات کی وجہ سے وہاں موجود نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی مسئلہ خدانخواستہ درپیش ہو تو آپ فون کرسکتے ہیں۔ وہ ہر طرح سے مدد کے لیے حاضر ہوں گے ۔
سہارا تو اللہ ہی کی ذات کا ہوتا ہے لیکن مخلص دوستوں کی تسلی آپ کو انجان راستوں پر آنے کا حوصلہ دیتی ہیں ۔ اشفاق صاحب کے علاوہ ہمارے پیارے دوست عبدالقادر جنہیں میں کمراٹ کا سفیر بھی کہتا ہوں نے بھی بہت مدد کی۔ انہوں نے سوات کے مقامی دوست کا نمبر دیا کہ اگر کوئی مشکل درپیش ہو تو ان سے رابطہ کیجیے گا۔ اس دوست نے بھی راستے بھر ہماری رہنمائی کی۔
اسلام آباد موٹر وے پاکستان کی خوبصورت ترین موٹر ویز میں سے ایک ہے۔ یہ نہایت سرسبز ہے اور موٹر وے بھی بہت کشادہ ہے. بیگم بچے اس سفر سے بہت محظوظ ہوئے۔۔۔ یہاں ریسٹ ایریاز نہایت بارونق اور تقریباً ہر بڑی فوڈ چین یہاں دستیاب ہے۔ اسلام آباد سے کچھ پہلے ایک بارونق ریسٹ ایریا میں رک کر سینڈوچ اور کافی کا لطف اٹھایا۔۔۔ موسم یہاں بھی اسی طرح گرم اور حبس زدہ تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم نے دوبارہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔ گھڑی 5 کا ہندسہ دکھارہی تھی۔ اب ہم نے بچوں کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایت دے کر گاڑی کے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔ اس مسلسل سفر نے ہماری منزل چکدرہ انٹر چینج جسے نشان حیدر شہید کرنل شیر خان انٹر چینج کا نام دیا گیا وہاں مغرب سے کچھ پہلے پہنچ گئے۔ اسلام آباد سے پشاور موٹر وے بھی نہایت حسین ہے لیکن اس کی چوڑائی قدرے کم ہے۔ کراچی ، لاہور سے جانے والے دوست احباب اگر سوات یا کمراٹ جانا چاہتے ہوں تو انہیں اسی انٹر چینج سے موٹر وے سے اترنا ہوگا۔ اور پھر یہاں سے ایک اور خوبصورت سوات موٹر وے آپ کی منتظر ہوتی ہے۔ اس موٹر وے پر چڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اے اللہ تو نے ہمیں اس دنیا میں کتنا خوبصورت خطہ عطا فرمایا ہے جہاں میدانی ، پہاڑی ، سرسبز ، ریگستانی سب علاقے موجود ہیں۔ دریا ، نہریں ، موسم کیا نہیں ہے یہاں پر۔ بس نہیں ملے تو اچھے حکمران ۔ اور ہم آزاد ہوکر ان لوگوں کی غلامی میں چلے گئے جن کو ہم نے سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ دیا تھا۔ سوات موٹر وے تقریباً سو کلومیٹر کا راستہ ہے جو آخر کار آپ کو سوات شہر پہنچادے گا۔
سوات شہر پہنچ کر موٹر وے کے پرسکون سفر کا اختتام ہوا ۔ سوات موٹر وے سے گزرنا ایک نہایت خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ بچے دونوں اطراف سرسبز پہاڑوں کو دیکھ رہے تھے۔ اسی موٹر وے پر دو سرنگیں آتی ہیں۔ نہایت خوبصورت اور جاذب نظر ٹنلز تھی ۔ ان کی بناوات ہر لحاظ سے عالمی معیار کی ہے۔
سوات موٹر وے بعض جگہوں پر بہت زیادہ گولائی میں گھومتی ہے۔ وہاں روڈ کنارے ہدایات کے بورڈ نظر آتے ہیں جہاں اسپیڈ لمٹ بتائی جاتی ہے۔ یہاں پہاڑوں سے لینڈ سلائڈنگ کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ موڑ کاٹتے وقت رفتار کو کنٹرول رکھنا چاہیے ہے ورنہ یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔یہاں موٹر وے پر صرف ایک جگہ پمپ ملتا ہے۔۔ یہاں پمپ پر ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی موجود ہے۔
سوات موٹر وے پر کوشش کیجیے کہ دن کے وقت سفر کریں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ غیرمحفوظ یا اس کا راستہ خطرناک ہے۔ بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ دن میں آپ اس کے اطراف کے حسن کو اپنی آنکھوں میں بسا سکتے ہیں۔۔۔
سوات شہر میں داخل ہونے کے بعد اگر آپ چاہیں تو مینگورہ، مدین اور بحرین میں سے کسی ایک جگہ پر رک سکتے ہیں ۔ یہاں میعاری ہوٹلز موجود ہیں۔ لیکن آپ یہاں صرف رک سکتے ہیں کیونکہ آپ کو بہرحال کالام جانا ہی ہوتا ہے اور کالام سے آگے ہی تفریحی مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔
سوات سے کالام کا فاصلہ 99 کلومیٹر ہے۔ لیکن چونکہ یہ راستہ شہر سے گزرتا ہے اور آگے جاکر اس روڈ کے ایک طرف دریا اور دوسری طرف سرسبز پہاڑ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آنے اور جانے والا ٹریفک بھی ایک ہی روڈ سے گزرتا ہے تو اس سبب آپ کی گاڑی کی رفتار نسبتاً کم ہوجاتی ہے اور یہ سو کلومیٹر کا ٹریک بہت وقت لے جاتا ہے۔
ہم نے چونکہ پہلے سے ہی کالام میں رات رکنے کا پروگرام بنایا تھا تو اس وجہ سے ہم مینگورہ ، مدین اور بحرین سے گزرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتے رہے۔ ایک مرتبہ رات کے وقت بحرین میں روشنیوں سے مزین ہوٹلز نے اپنی طرف کھینچا لیکن پھر یہ خوف مانع رہا کہ بچے حسب عادت لیٹ اٹھیں گے اور اس طرح کالام پہنچتے پہنچتے پورا دن ضائع ہوجائے گا۔
بحرین سے گزرنے کے بعد روڈ تھا اور کالام کی جانب نامعلوم سفر۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے یہ دو سو کلومیٹر کا سفر ہے۔ رات کی وجہ سے منظر بھی اوجھل ہوچکے تھے۔ لیکن الحمدللہ یہ ایک مکمل پرامن علاقہ ہے اس وجہ سے رات کو سفر کرنے میں کوئی دقت یا ڈر محسوس نہیں ہوتا۔
میں دوستوں کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ کے پاس نئی گاڑی ہو تو آپ اپنی گاڑی لے آئیے۔ بس ٹائرز کی ہوا اور تیل پانی کا خیال رکھیے. لیکن اگر آپ کے پاس زیادہ پرانی گاڑی ہو تو اس پر صرف اس وقت آئیں جب اس کی کنڈیشن انجن اور سسپنشن وائز بہترین ہو۔ ٹائرز کی کوالٹی بہتر ہو۔ بریک سسٹم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے گا۔ راستے میں پرانی گاڑیاں ہی خراب نظر آئیں۔ رات کے وقت اگر گاڑی خراب ہوجائے تو آپ بےبس ہوتے ہیں۔ مقامی افراد بھی دن چڑھے ہی آپ کی مدد کرسکتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھیے کہ گاڑی بہت پرانی نہ ہو اور اگر ہو تو ہر لحاظ سے مکمل فٹ۔۔۔۔
بحرین کراس کرنے کے بعد بھوک نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا. بچوں اور بیگم صاجبہ کی مشاورت سے کہیں رک کر رات کے کھانے کا پروگرام بنایا ۔ بیگم صاحبہ کو ایک خدشہ تھا کہ کہیں پیٹ بھرنے کی وجہ سے مجھ پر نیند غالب نہ آجائے۔ لیکن سفر کی نوعیت کی وجہ سے میں نے رات کو بڑی اچھی اور لمبی نیند لی تھی۔ گاڑی چلاتے وقت آپ کی پوری فیملی یا دوست احباب اللہ کے بعد آپ کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
زندگی اللہ کی ایک نعمت اور حسین ترین تحفہ ہے۔ اس کی قدر کیجیے۔ لمبے سفر پر ہمیشہ تازہ دم ہوکر جائیں اور پھر راستوں کے حساب سے گاڑی چلائیں ۔ بعض شوخ اور بیوقوف لڑکے ان پرخطر راستوں پر بھی خطرناک اوور ٹیک اور اوور اسپیڈ جارہے تھے۔ ذرا سی غلطی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ گاڑی چلائیے اور اس بات کو یاد رکھیں کہ دیر سے پہنچنا ، نہ پہنچنے سے بہت بہتر ہے۔
اور جب آپ کا مقصد ہی سیر و تفریح ہو تو پھر کیسی جلدی۔ اور ان وادیوں میں جانے والے راستے ہی اس قدر خوبصورت ہوتے ہیں کہ آپ ان نظاروں کی سحرانگیزی میں ڈوبتے جائیں۔ رات کو اگرچہ مناظر اوجھل ہوجاتے ہیں لیکن دریا کے پانی کی آواز اور پہاڑوں پر گھروں کی روشن بتیاں آپ کے لیے ایک پرکیف منظر پیش کررہی ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان دوڑتی گاڑی کے شیشوں سے ان مناظر کو دیکھنا بہت ہی الگ سا تجربہ ہوتا ہے ۔
ایک جگہ ہوٹل دیکھ کر ہم گاڑی ہوٹل کے اندر پارکنگ میں لے گئے۔ ہوٹل کے اندر ایک طرف کمرے بنے تھے جہاں قالینوں پر گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے۔ درمیان میں لکڑی کے فرشی میز بنے ہوئے تھے۔ جبکہ دوسری طرف خیمے لگے ہوئے تھے.۔۔۔۔
ہم نے ایک کمرے کا انتخاب کیا اور منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہوگئے۔ کھانے میں کڑاہی اور کباب منگوائے۔ اذلان ہمارے بڑے بیٹے چاولوں کے شروع سے ہی دیوانے ہیں تو ان کے لیے کابلی پلاؤ منگوایا۔ کھانے کا معیار بہت اچھا تھا۔ لذیذ طعام سے فراغت پاکر دیسی گڑ کے ساتھ قہوہ نوش کیا۔ بل بھی مناسب تھا۔ سب کو کھانا اور ماحول پسند آیا۔ صاف ستھرا ہوٹل تھا۔
اس کے بعد بچے تھک چکے تھے۔ وہ گاڑی میں سیٹ پیچھے کرکے سو گئے۔ بیگم صاحبہ کو بھی میں مے کہا کہ سیٹ پیچھے کرکے آرام کرلیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ سب کو سوتا دیکھ کر کہیں آپ کو بھی اونگھ نہ آجائے۔ سچ پوچھیے تو بیگم بچوں کا ساتھ ، خوبصورت نظارے ، موسم کی دلکشی اور گاڑی کا ڈرائیو پلیژر سب مل کر مجھ میں ایسی انرجی بھر رہے تھے کہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں بوڑھا نہیں بلکہ ایک بھوپور نوجوان ہوں۔
بہرحال ہم میاں بیوی گپ شب لگاتے بقیہ سفر کو مکمل کرنے میں مصروف ہوگئے۔ راستہ کہیں دشوار گزار بھی تھا لیکن زیادہ تر راستہ ٹھیک ملا۔ یہاں راستے میں ٹریفک پولیس چابکدستی کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرتی نظر آئی۔ تنگ روڈ پر یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ سب ایک لائن میں گاڑی چلارہے تھے۔ یہاں آپ کو مقامی طور پر اسمگل شدہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں جابجا نظر آتی ہیں جن کو درگئی تک آنے کی اجازت ہے۔
ان گاڑیوں کا اندراج مقامی تھانوں میں کروایا جاتا ہے تاکہ ریکارڈ موجود رہے۔ ہم ان پرپیچ لیکن حسین راستوں سے گزرتے ہوئے رات 2 بجے کالام میں داخل ہوچکے تھے. اللہ پاک کا شکر ادا کیا جس نے ان اجنبی راستوں پر بھی ہماری حفاظت فرمائی ۔
اگلا مرحلہ ہوٹل کا تھا۔ ہمارے پیش نظر دو چیزیں تھی ایک تو ہوٹل صاف ستھرا ہو اور دوسرا دریا کا منظر نظر آئے۔ لیکن جو ہوٹل اچھا محسوس ہوتا وہاں کمرہ نہیں ملتا اور جہاں کمرہ ملتا وہ ہوٹل ہمیں پسند نہ آتا۔ سفر کی تھکن اب مجھ پر بھی طاری ہوچکی تھی. سیاحوں کا رش تھا جس کی وجہ سے ہوٹل مینیجرز منہ مانگا کرایہ مانگ رہے تھے۔۔
تھوڑی تگ و دو کے بعد آخرکار ایک ہوٹل پسند آگیا۔ کرایہ دو دن کا 20 ہزار مانگا ۔ کمرہ کشادہ تھا جس میں دو سنگل بیڈ اور ایک ڈبل بیڈ تھا جبکہ روڈ کی طرف کشادہ ٹیرس بھی تھا جس میں صوفے رکھے ہوئے تھے ۔ دریا کی طرف کے کمرے بک تھے۔ لیکن ایک کامن گیلری سے گزر کر باہری طرف ایک کشادہ گیلری موجود تھی جہاں سے دریا کا نظارہ ہوسکتا تھا۔ تھوڑی بحث و مباحث کے بعد 16 ہزار روپے میں دو دن کے لیے کمرہ بک کروالیا ۔
آپ رات کو جب بھی پہنچے لیکن چیک آؤٹ ٹائم دوپہر 12 بجے ہوتا ہے ۔ جب سیاحوں کا رش ہو تو ہوٹل انتظامیہ چیک آؤٹ ٹائم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔اور ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ہم رات 3 بجے ہوٹل کے کمرے میں داخل ہونے اور یوں ڈیڑھ دن کا کمرہ بک کرواکر دو دن کا کرایہ دینا پڑا۔۔۔۔۔۔ بستر پر لیٹ کر ہم نیند کی وادیوں میں کھوگئے۔۔۔۔
صبح سویرے آنکھ کھلی تو ایک بھر پور تازگی کا احساس ہوا۔ کراچی اور پنجاب کے گرم موسموں سے اس موسم میں داخل ہونا بہت پرلطف تھا۔ نیند خدا کی ایسی نعمت ہے جو آپ کے دن بھر کی تھکن کو دور کردیتی ہے۔
بچوں کو سوتا دیکھ کر احساس ہوا کہ ان کا جلدی اٹھنا مشکل ہے۔ کافی لمبا سفر کیا تھا اور اس کا احساس بچوں کے چہروں سے ہورہا تھا۔ میں اور بیگم کمرا لاک کرکے باہر کشادہ گیلری میں آگئے جو دریا کی جانب واقع تھی ۔ یہاں سے دریا کے نظارے کے ساتھ ساتھ چاروں طرف سے وادی کو گھیرے سرسبز پہاڑوں اور ٹھنڈی ہوا نے لمبے سفر کی تھکن کو کافور کردیا۔
یہاں کا موسم نہایت خوشگوار تھا ۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں تھا کہ آپ کو گرم کپڑے ، چادر یا جیکٹ پہننے کی ضرورت محسوس ہوتی. آپ عام استعمال کے کپڑوں میں بھی اس موسم کا باآسانی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں ریے کہ میں جولائی کے موسم کی بات کررہا ہوں۔ آگے اگست اور مزید بڑھتے مہینے موسم کو سرد کرتے چلے جائیں گے۔ لہٰذا جب وہاں جائیں تو موسم کی معلومات لے کر جائیں. رات کے وقت گرم چادر بھی لے کر سویا جاسکتا ہے ۔ کمبل بھی لے لیں تو مضائقہ نہیں۔۔
البتہ پانی شدید ٹھنڈا آرہا تھا۔ گرم پانی کے بغیر نہانا اور منہ ہاتھ دھونا مشکل کام ہے۔ کالام میں سیاحوں کا رش کافی زیادہ تھا. ملک بھر سے فیمیلیز ، دوست احباب اکھٹے ہوکر ان علاقوں کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے آئے ہوئے تھے. کالام کے بازار سیاحوں کی آمدورفت سے پر رونق ہوئے وے تھے۔ دکانوں پر رش تھا۔ مقامی لوگوں کے کاروبار کا انحصار ملک بھر سے آئے ہوئے انہیں سیاحوں پر ہوتا ہے۔
ہم میاں بیوی نے گرما گرم چائے کا لطف اٹھایا۔ پھر بچہ پارٹی کو اٹھایا اور انہیں تیار ہونے کا کہا تاکہ ہم سیر کے لیے جاسکیں۔ کالام سے آگے اپنی گاڑی لے جانا نہایت گھاٹے کا سودا ہے۔ کیونکہ ایک تو راستے نہایت پرخطر اور کچے ہیں اور دوسرا پتھروں اور سخت پتھریلی اور ناہموار زمین آپ کی گاڑی کے سسپنشن کو اس قدر نقصان پہنچا سکتی ہے کہ شاید اسے مرمت کروانے میں آپ کے کئی ہزار روپے خرچ ہوجائیں۔۔۔
بہتر ہے کہ آپ مقامی لوگوں سے گاڑی کرایہ پر بمعہ ڈرائیور حاصل کریں. اس سے ایک تو آپ کی گاڑی بچ جائے گی ، دوسرا ڈرائیور کی صورت میں آپ کو مفت کا گائیڈ مل جائے گا اور سب سے اہم بات کے وہ یہاں کے مشکل راستوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیے ان کی ڈرائیونگ سے آپ آسانی سے ان راستوں کے خوش کن نظاروں سے دل و دماغ کو بہم راحت پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح مقامی لوگوں کو آپ کے آنے سے روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں ۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بعض نوجوان لڑکے اپنی نہایت قیمتی کروڑوں کی جیپ دوستوں کے ہمراہ ان راستوں پر لے کر آئے ہوئے تھے. ان کو دیکھ کر احساس ہورہا تھا کہ ان کو اپنے والدین کے پیسوں کا احساس نہیں یا پھر ان پر آسمان سے زیادہ ہی مائع برس رہی ہے۔ موٹر سائیکل پر بھی نوجوانوں کی ٹولیاں مستی کرتی نظر آرہی تھی۔
بچوں کے تیار ہوتے تقریباً دوپہر کے 12 بج چکے تھے۔ ہم نے ناشتے کی جگہ دوپہر کا کھانا کھایا اور ایک مقامی ڈرائیور جن کا نام لاجور تھا سے ان کی جیپ کرائے پر حاصل کی۔ یہ بھی سیون سیٹر کھلی 4×4 جیپ تھی. ڈیزل کی قیمتوں کی وجہ سے کرایہ بھی بڑھا ہوا تھا لیکن لاجور بھائی نے معقول کرایہ طے کیا۔ سات ہزار روپے طے کرکے ہم ان کی معیت میں بلو واَٹر کے مقام پر جانے کے لیے روانہ ہوگئے ۔
یہ ایک الگ ، نہایت منفرد اور دلچسپ تجربہ تھا. پہاڑوں کے درمیان بنے کچے پکے ناہموار ، اونچے نیچے راستوں پر گاڑی ہچکولے کھاتی ہمیں آگے لے کر بڑھ رہی تھی. لاجور بھائی کے ساتھ جلد ہی بےتکلفی ہوگئی۔ انہوں نے نہایت خوش اخلاقی کے ساتھ ہمیں یہاں کی سیر کروائی۔ جہاں ہم کہتے تھے وہ گاڑی روک لیتے تھے۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے خود بھی گاڑی روک کر ہمیں ان جنت نظیر نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔
کالام شہر میں ہمارے موبائل نمبرز کے سگنل مکمل طور پر جاچکے تھے۔ یہاں آتے وقت آپ اپنے گھر والوں کو ضرور بتاکر آئیں کہ موبائل نمبر نہ ملنے کی صورت میں وہ پریشان نہ ہوں۔ یہاں پر مقامی لوگ ٹیلی نار کا نمبر استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نمبر یہاں زیادہ دور تک استعمال ہوں تو ٹیلی نار کی سم لے کر آئیے۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچے پہلے تو بہت جزبر ہوئے لیکن پھر علاقے کی حسین ، سرسبز وادیوں نے انہیں اور ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
جیسے جیسے ہم بلو واٹر کے مقام کی جانب بڑھ رہے تھے دریا کا پانی دودھیا سفید ہوتا جارہا تھا۔ مجھے آگے بڑھتے ہوئے احساس ہورہا تھا کہ جیسے ہم کمراٹ وادی آگئے ہوں۔کیونکہ یہاں کا صاف پانی ، بلند و بالا درختوں کا منظر بالکل کمراٹ وادی جیسا محسوس ہورہا تھا۔
ہم ایک مقام پر رکے جہاں لکڑی کا عارضی پل بنا ہوا تھا۔ جسے پار کرکے آپ دریا کے دوسری طرف جاسکتے تھے۔ وہاں پانی کا شدید بہاؤ تھا۔ قدرتی پتھر بڑے سلیقے سے یہاں رکھے ہوئے تھے ۔ یہاں بھی دوستوں کو مشورہ ہے کہ پانی کے ساتھ چھیڑ خانی سے پرہیز کریں۔ پانی کا بہاؤ اس قدر شدید ترین ہوتا ہے کہ خدانخواستہ اگر یہ پانی آپ کو بہا لےجائے تو منٹوں ، سیکنڈوں میں آپ نظروں سے اوجھل ہوجائیں گے۔
بالکل کنارے پر بیٹھ کر پانی کی ٹھنڈک کو محسوس کریں اور اگر بچے ساتھ ہوں تو ان کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہاں ہماری فیملی نے بہت سی تصاویر بنائیں۔ آدھے گھنٹہ رک کر ہم بلو واٹر کی جانب بڑھ گئے۔ ایک عجیب بات میں نوٹ کررہا تھا کہ جس قدر راستہ مشکل ، دشوار اور خطرناک ہورہا تھا اتنے ہی مناظر کا حسن بڑھ رہا تھا۔
دل میں خیال آیا کہ خدا کی جنت کا حصول بھی شاید اس سے مماثلت رکھتا ہے. کہ خدا کے راستے میں ہمیشہ مشکلات آتی ہیں۔ نیکی کا سفر آسان نہیں لیکن آپ اس مشکل راستے پر چلتے چلے جائیں گے تو جنت کے حسین مناظر اللہ کی رحمت سے آپ کے منتظر ہوں گے۔
بلو واٹر پہنچے تو ایک الگ ہی دنیا ہماری منتظر تھی۔ دریا کا کرسٹل واٹر ، چاروں طرف نہایت سرسبز پہاڑ ۔ یہاں مقامی لوگ پانی اورکولڈرنک کو دریا کے ساتھ پائپ اور نالیوں کے ذریعے پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب میں رکھتے تھے۔ اس پانی سے آپ سادہ پانی یا کولڈرنک کی بوتل نکالیں تو وہ ٹھنڈی یخ نکلتی تھی۔
یہاں پر بےشمار فیملیز آئی ہوئی تھی۔ ایسا احساس ہورہا تھا کہ جیسے سب اس جنت کے مکین ہیں۔ سب اپنے آپ اور اپنے پیاروں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ بچے تو بچے ،بڑے بوڑھے سب کے چہرے کی خوشی ، سرشاری دیکھ کر سب کے ہم عمر ہونے کا گمان ہورہا تھا. ایسا حسین منظر اور شاداں و فرحان چہرے دیکھ کر دل سے دعا نکل رہی تھی کہ اللہ ہمارے پورے ملک کو ایسا پرامن ماحول عطا کردے جہاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ ڈیرے ڈالے بیٹھی ہو اور ان کے دل کی کدورتیں خدا صاف کرکے انہیں محبت کے پانی سے دھو دے۔۔
بلو واٹر کے ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر بیٹھنا۔۔۔ جنت نظیر ماحول کا آپ کے دل و دماغ پر ایک ایسا نقش قائم ہوجاتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی ہر پریشانی دور ہوگئی ہو۔ یقین جانیے جنت کے متلعق بہت سی آیات کو سمجھنے میں یہ ماحول بہت مدد دے رہا تھا۔
دل تھا کہ یہاں گھنٹوں بیٹھے رہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ وقت کے حساب سے اپنے پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ سو ایک ڈیڑھ گھنٹا یہاں گزار کر ہم دوبارہ لاجور بھائی کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگئے۔ ان ہی پرپیچ راستوں سے ہوتے ہوئے ہم اب گرین ٹاپ کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے۔
یہ راستہ چونکہ پہاڑ کے اوپر تھا تو پہاڑوں کے درمیان سے گاڑی مسلسل اونچائی کی جانب گامزن تھی۔ زیادہ تر راستہ پکا بنا ہوا تھا تاہم گولائی میں چڑھتا ہوا راستہ ڈرائیور کی مہارت مانگتا ہے ۔ ہمارے لاجور بھائی نہایت اطمینان سے گاڑی چلا رہے تھے اور ساتھ ہی بچوں کو حوصلہ دے رہے تھے کہ وہ بالکل نہ گھبرائیں. کوئی آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بات ہم ایک ہموار جگہ پر آگئے تھے جہاں سے اونچائی سے آپ کالام شہر کا نظارہ کرسکتے تھے. یہ ایک دلچسپ اور خوبصورت تجربہ تھا۔ مناظر کی خوبصورتی مسحور کن تھی. چاروں اوٹ سرسبز پہاڑ ۔
یہاں پر نہایت تیز ہوا چل رہی تھی لیکن یہ ہوا خوشگواریت کا احساس لیے ہوئے تھی۔ اس میں سردی کا احساس نہیں تھا۔ یہاں پر ہم گاڑی سے اتر کر مناظر سے لطف اندوز ہونے لگے۔ یہاں ایک دکان سےگرما گرم پکوڑے کھائے۔ نہایت خستہ ، گرم اور لذیذ پکوڑوں نے موسم اور فضا کی مستی کو چار چاند لگادئیے ۔ گرما گرم چائے کا دور چلا۔ بچوں نے فنگر چپس لیے۔ ان سب کا معیار بہت اچھا تھا۔
یہاں ہمارے ساتھ مقامی طور پردو بچے ساتھ ہولیے۔ یہ ہمیں مختلف مقامات کی جانب رہنمائی بھی کررہے تھے اور ساتھ ساتھ ہماری درخواست پر ہماری فیملی کی تصاویر بھی کھینچ رہے تھے ۔ بچے بہت پیارے ، سمجھدار اور محبت کرنے والے تھے۔ان میں سے ایک بچے کی موبائل فون پر تصاویر کھینچنے کی صلاحیت نے بہت متاثر کیا۔ جب اس سے پوچھا کہ کیا یہ مہارت اس نے اپنے موبائل فون پر حاصل کی تو وہ کہنے لگا کہ اس کے پاس تو اسمارٹ موبائل ہے ہی نہیں ۔ یہ فن تو اس نے یہاں آنے والے سیاحوں کے موبائل سے ان کی تصاویر کھینچ کر حاصل کیا ہے۔
جواب سن کر بہت حیرت ہوئی اور اس بچے کے ٹیلنٹ پر رشک محسوس ہوا۔ ایک گھنٹے سے کچھ زائد یہاں مختلف مقامات سے شہر اور پہاڑوں کا نظارہ کیا۔ شام کے سائے دن کو نگل رہے تھے. ان بچوں کے ساتھ کچھ تصاویر بنائیں ۔ان کو کچھ پیسے دئیے جو بہت اصرار پر انہوں نے قبول کیے۔ ساتھ ہی ان بچوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو کل صبح سامنے والے پہاڑ پر جائیے۔ وہاں کا راستہ بہت دشوار گزار ہے۔ لیکن وہ پہاڑ جو دسان ویلی کے نام سے موسوم ہے اس بلو ٹاپ پہاڑ سے کہیں اونچا ،سرسبز اور خوبصورت ترین نظاروں سے مزین ہے۔
اس کے پرخطر سفر کی اصل قیمت تب وصول ہوگی جب آپ پہاڑ کی اونچائی پر پہنچ جائے گے۔ وہاں کی خوبصورتی اور نظاروں کو آپ پوری زندگی فراموش نہیں کرسکتے. ہم نے اس معلومات پر بچوں کا شکریہ بھی ادا کیا اور تذبذب کی کیفیت لیے گاڑی کی طرف چل پڑے جہاں لاجور بھائی مسکراتے ہوئے ہمارے منتظر تھے. گاڑی میں بیٹھ کر واپسی نیچے کی جانب اترنا شروع کیا۔ سفر کی تھکن اب چہروں پر نمایاں تھی. اب خواہش تھی کہ جلد ہوٹل پہنچ کر تازہ دم ہوکر آرام کیا جائے۔ دوران سفر لاجور بھائی نے کہا کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو کل میرے ساتھ سامنے پہاڑ جسے ہم دسان ویلی کہتے ہیں ، چلیے۔
بچوں والا ہی مشورہ لاجور بھائی کے منہ سے بھی سنا تو اب دید کا شوق سر چڑھ کر بولنے لگا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کل دوپہر 12 بجے چیک آؤٹ ٹائم تھا۔ ہمیں کمرہ خالی بھی کرنا تھا اور واپسی کا سفر بھی کل ہی کرنا تھا۔ اس کا حل لاجور بھائی نے ہی بتایا کہ آپ صبح 7 بجے یہاں سے گاڑی پر چلیں۔ پہاڑ پر چڑھنے کا دورانیہ دو سے ڈھائی گھنٹے ہوگا۔ آپ اطمینان سے وقت گزار کر اگر 2 گھنٹے بعد بھی نیچے واپس آئیں تو واپسی پر یہی سفر ایک گھنٹے کا ہوگا۔ اس طرح 12 سے 1 تک ہم واپس آسکتے ہیں۔
سو اس طرح ہم نے لاجور بھائی سے پیسے اور وقت طے کرلیا. وہ ہمیں ہوٹل اتار کر صبح 7 بجے آنے کا کہ کر چلے گئے۔ ہم میاں بیوی نے اپنا سب سامان رات میں ہی پیک کرلیا تاکہ اگر ہمیں واپسی آنے میں دیر ہوجائے تو سامان نیچے رکھا جاسکے اور ہوٹل کے ایک دن کے اضافی کرائے سے بچا جاسکے۔ رات کو بچوں کو پابند کیا کہ وہ جلدی سوجائیں تاکہ صبح دیر نہ ہو اور ہم اپنے مقرر کردہ وقت کے مطابق پروگرام مکمل کرسکیں ۔
بچوں نے ہوٹل سے چائیز رائس اور ساشلک کا آرڈر دیا. اور ہم دونوں میاں بیوی کچھ دیر آرام کرکے کالام کے بازار میں بغرض شاپنگ نکل پڑے ۔ مختلف دکانوں سے کپڑے ، گرم چادر ، شال چترالی ٹوپی ، ڈرائی فروٹس اور یہاں کے اینٹیک آئٹمز خریدے۔ بازار سیاحوں سے پررونق نظر آرہے تھے. پاکستان کے ہر شہر کے لوگ چہروں پر خوشی لیے اپنے دوستوں اور فیمیلیز کے ساتھ شاپنگ میں مصروف نظر آرہے تھے۔
سامان کے تھیلے ہم دونوں میاں بیوی ہاتھوں میں لیے بٹ کڑاہی کی طرف چل پڑے ۔ جی یہ وہی لاہور لکشمی چوک بٹ کڑاہی والے ہیں۔ انہوں نے سوات ، کالام ہر جگہ اپنی فوڈ چینز کھول لی ہیں۔ یہ کراچی میں بھی آچکے ہیں۔ ان کا کھانا کھا چکے ہیں تو اچھا تجربہ رہا تھا۔ سو انہیں کا انتخاب کرکے ہم دونوں ہوٹل کی چھٹ پر کرسیوں پر بیٹھ گئے. چکن کڑاہی کا آرڈر دیا۔ اچھا ذائقہ تھا۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی. یہاں سے فارغ ہوکر ایک اور ہوٹل سے قہوہ پیا۔۔۔۔
فارغ ہوکر ہم ہوٹل آگئے۔ اب پروگرام یہ تھا کہ آرام کریں کیونکہ 12 بج چکے تھے. اور صبح جلدی اٹھ کر جانا تھا ۔لیکن کمرے میں پہنچے تو بچہ پارٹی مکمل فریش بیٹھی ہماری منتظر تھی۔ بیگم نے کانوں کو ہاتھ لگاکر دوبارہ بازار جانے سے منع کیا کیونکہ انہوں نے سامان بھی پیک کرنا تھا. ہم چار و ناچار بچوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر بازار آگئے۔ بچوں نے گھنٹا بھر انجوائے کیا۔ جوسز پیے۔ اور پھر واپس ہوٹل آگئے.
واپسی تک سامان پیک ہوچکا تھا۔ ہر چیز ترتیب سے دیکھ کر اچھا احساس ہوا۔ اگلے آدھے گھنٹے میں ہم سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے. صبح 6 بحے لاجور بھائی کے فون سے آنکھ کھلی۔ نجانے ماحول کی تازگی کا اثر تھا یا پھر ہم خوشی سے جوان ہوگئے تھے۔ چند گھنٹوں کی نیند سے خود کو ترو تازہ محسوس کیا۔ بچوں کو اٹھایا اور سب کو جلد تیار ہونے کا کہا۔ لیکن نہ نہ کرتے ہوئے بھی ہم صبح 8 بجے ناشتہ کرکے لاجور بھائی کی جیپ میں بیٹھ چکے تھے ۔ اس سے پہلے ہوٹل والوں کو کہ گئے کہ اگر ہمیں آنے میں دیر ہوجائے تو ہمارا سامان نیچے ریسپشن پر رکھ دیجیے گا یا گاڑی میں رکھوا دیجیے گا ۔
اب ہم ایک نئے سفر کی جانب روانہ تھے جہاں اس سے پہلے ہمارا کوئی تجربہ نہ تھا۔ ہم سب بہت پرجوش تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ سفر کی مشکلات کا خوف بھی دامن گیر رہا۔ آیت الکرسی ، درود شریف اور سفر کی دعاؤں کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا۔ لاجور بھائی اپنی مخصوس مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا حوصلہ بڑھارہے تھے. صبح کی دلکشی اور وادی کا حسن ہمیں مبہوت کررہا تھا۔ ہم تب اس دلکش مناظر کے سحر سے نکلے جب دسان ویلی کے پہاڑ کا سفر شروع ہوا۔۔
دیسان ویلی ایک بلند و بالا پہاڑ پر واقع ہے۔ ہم نے اللہ رب العزت سے دعا کرکے سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ سفر نہایت دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ راستہ بالکل کچا اور ناہموار تھا. چشموں کے بیچ سے گزرتا راستہ کبھی انتہائی دائیں جانب مڑ جاتا تو کبھی بائیں جانب۔ کہیں بالکل یو ٹرن کی طرز پر گھوم جاتا۔
کہیں گاڑی کو آگے بڑھا کر پھر ریورس گئیر لگا کر ٹریک پر چڑھایا جاتا۔ سیدھی طرف ہم پہاڑ کے سائے تلے تھے تو دوسری طرف کبھی گہری کھائی آجاتی تو کیں چشموں کی روانی منظر کو دیدہ زیب بنادیتی. جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا تو ایک طرف اعتماد بھی بحال ہورہا تھا تو کہیں موڑ دیکھ کر یوں بھی محسوس ہوتا کہ کس طرح گاڑی یہاں پر آئے گی۔ لیکن لاجور بھائی کی مہارت دیکھنے لائق تھی۔
ایک جگہ تو انہوں نے نہایت مشکل یو ٹرن موڑ پر ایک ہی مرتبہ میں گاڑی موڑ کر ہمیں حیرت زدہ کردیا۔ الحمدللہ ميں خود گاڑی چلانے میں کافی مہارت رکھتا ہوں۔ پورے پاکستان کا سفر خود ڈرائیو کرکے کرچکا ہوں۔ اپر دیر میں رات رکنے کے لیے جس دوست کے گھر ٹہرے ان کی رہائش تک پہاڑ پر بھی گاڑی میں نے چلائی تھی اور ایک دو مشکل یوٹرن بھی لیے تھے. لیکن باوجود اس سب تجربے اور مہارت کے میں ان راستوں پر گاڑی کو چلتا دیکھ کر محسوس کررہا تھا کہ یہاں گاڑی چلانا میرے بس کی بات نہیں۔۔۔
نوجوان دوستوں سے گزارش ہے کہ تھرلنگ اور ایکسائٹمنٹ میں کبھی اس پر گاڑی چلانے کی کوشش نہ کیجیے. موٹر سائیکل پر بھی نوجوانوں کی ٹولیاں محو سفر تھی ۔ ان کو دیکھ کر حیرت ہورہی تھی کہ یہ اتنی مشقت کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اس قدر طویل چڑھائی کے دوران کیا موٹر سائیکل کا انجن اس قابل رہ جائے گا کہ وہ سفر کو مکمل کرسکے. یہ ایک اعصاب شکن اور مشکل ترین راستہ ہے. نہ اپنی گاڑیوں کو برباد کریں اور نہ لی اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگائیں۔
مقامی ڈرائیورز کی خدمات حاصل کریں کیونکہ وہ ان راستوں کے حافظ ہوتے ہیں۔ سینکڑوں مرتبہ سفر کرچکے ہوتے ہیں. بہرحال بات دوسری طرف جانکلی۔ عجیب نظارے ہمارے منتظر تھے ۔ کہیں راستے کے دونوں اطراف جنگلات کی طرح پھیلے درخت ہمیں ڈھانپ لیتے جہاں پہاڑوں سے چشموں کی صورت میں بہتا پانی نکل کر راستے سے گزر کر نیچے ڈھلوان کی جانب جارہا ہوتا۔
کہیں ہموار راستہ آتا تو کچھ دیر سکون ملتا. بچے اور بیگم گھبرائے ہوئے تھے. لیکن مناظر کی دلکشی ، اونچائی ، سرسبز درختوں اور سہانے موسم نے جلد ہم سب کو اپنی گرپ میں لے لیا۔ بچوں نے اپنے اپنے موبائل سے مختلف مناظر کو فلمانا شروع کردیا۔ پہاڑوں کے ساتھ چلتے دوسرے پہاڑوں کا منظر اونچائی سے خوبصورتی اور دلکشی کا ایسا سحر طاری کررہا تھا کہ ہم سب کو خوشی ہوئی کہ ہم نے یہاں آنے کا درست فیصلہ کیا ۔ راستہ دشوار ہونے کے ساتھ نہایت تنگ بھی تھا۔ آمنے سامنے آنے کی صورت میں بعض جگہوں پر ایک گاڑی کو ریورس کرکے پیچھے ہٹنا پڑتا اور بعض جگہوں پر زرا چوڑی سائیڈ ملتی تو ایک طرف گاڑی وہاں دبا کر روک لی جاتی تو دوسری باآسانی نکل جاتی۔ بعض جگہوں پر دونوں گاڑیاں نہایت کم فاصلے سے ایک دوسرے کو چھوتی ہوئی گزر جاتی۔ لیکن ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے ایسی صورتحال کم کم پیش آرہی تھی۔
ایک جگہ موڑ پر بہتا ہوا چشمہ آیا تو ہم سب نے وہاں گاڑی رکوائی۔ لاجور بھائی نے گاڑی کے انجن کو ذرا چشمے کے پانی سے ٹھنڈا بھی کیا۔ مسلسل چڑھائی سے انجن کا پارہ چڑھنا تو بنتا ہے۔
وہاں کھڑے ہوکر موسم، منظر اور پہاڑوں کے سائے تلے ہمیں یوں محسوس ہورہا تھا کہ اس دنیا میں صرف ہم ہیں اور کوئی نہیں۔ عجیب سرور سا طبعیت میں امڈ آیا۔ وہاں کے مقامی لوگ تو اس ماحول کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں لیکن ہم شہروں سے آئے ہوئے لوگ گہما گہمی اور مصروف زندگی سے ان لمحات کو غنیمت جانتے ہیں۔
وہاں کے احساسات کو درست انداز سے قلمبند کرنا بھی میرے لیے ممکن. نہیں. بس دل سے تشکر کے جذبات امڈ رہے تھے کہ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنی رحمت سے ان مقامات کو دیکھنے کی ہمت ، توفیق اور وسائل عطا فرمائے۔ کروڑوں میں سے شاید چند لاکھ لوگ ہی ان حگہوں پر آئے ہوں گے کیونکہ اس پہاڑ پر آنے والوں کا رش بلو وائر ،مہوڈنڈ جھیل اور گرین ٹاپ کے مقابلے میں کافی کم تھا۔ ایک احساس ہورہا تھا کہ ہم اپنے گھروں سے اتنی دور ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہمارا کوئی خونی رشتہ موجود نہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہم وطن ہونے کا احساس بھی ایک اپنائیت عطا کرتا ہے۔
یہاں سے کچھ دیر لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ خوابیدہ احساس جاگزیں ہورہا تھا. اب تک زمین پر کھڑے ہوکر پہاڑ کی بلندی اور وسعتوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ لیکن ان پہاڑوں کے اوپر چڑھے تو اندازہ ہوا کہ پہاڑ اپنے اندر ایک الگ ، حسین اور دلکش دنیا سموئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ سرسبز چراہ گاہیں دائیں اور بائیں پہاڑ کے بالمقابل استادہ پہاڑ جن کی چوٹیوں پر اس موسم میں بھی برف نظر آرہی تھی. اس برف پر حب کسی اینگل سے سورج کی روشنی پڑتی تو اس میں سے سفیدی چمکتی نظر آتی. اب ہمیں ڈیڑھ گھنٹہ ہوچکا تھا پہاڑ پر سفر کرتے ہوئے۔ ایک جگہ پر ایک گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے راستہ بند ہوگیا۔ اس وجہ سے ہمیں بیس منٹ یہاں رکنا پڑا.
یہاں رکنا اگر چہ حادثاتی تھا لیکن جب ہم گاڑی سے اترے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک نہایت سرسبز جگہ ہے جہاں پر اونچائی پر بلند و بالا درختوں کی اک دنیا آباد ہے تو دوسری طرف سامنے پہاڑ اپنی شان شوکت کے ساتھ زمین پر مضبوطی سے اپنی میخیں گاڑھے کھڑا تھا۔ طبعیت میں اس قدر توانائی عود آئی تھی کہ مجھ ایسے سنجیدہ انسان پر بھی شوخی اور مستی امڈ آئی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اپنی بےسری آواز میں اونچا اونچا گاؤں۔ ناچوں ، جھوموں، رقص کروں۔
لیکن اپنی عمر اور طبعیت کو دیکھتے ہوئے خود کو اس پر مائل نہ کرسکا۔ سو گنگنانے پر اکتفا کیا. اور اونچائی سے ڈھلان پر دونوں ہاتھ پھیلائے بچوں کی طرح بھاگتا ہوا اترا۔۔۔۔
بیگم بچوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت دیکھ کر دل شادماں تھا۔ گاڑی ٹھیک ہوئی تو راستہ کھل گیا۔ ہماری آنکھیں مسلسل اونچائی کا تعاقب کررہی تھی اور اس منزل کو کھوج رہی تھی جہاں ہم نے رکنا تھا۔ ایک مقام پر لاجور بھائی نے بتایا کہ ہم کالام کے لوگ اب یہاں نہیں جاسکتے کیونکہ زمین کے تنازعے پر اتروڈ اور کالامی عوام میں جھگڑے میں دونوں اطراف کے لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد سے جرگے کے حتمی فیصلے تک کالامیوں کا یہاں جانا ممنوع تھا ۔
یہ سن کر دل نہایت رنجیدہ ہوا کہ اس جنت نظیر ماحول میں بھی شیطان اپنا وار دکھا جاتا ہے اور نفرتوں کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ یہاں سے کمراٹ ویلی جائے گے تو کالام کا رہنے والا آپ کو وہاں نہیں لے کر جاسکتا ۔ اس کے لیے کمراٹ کا رہائشی ہی آپ کو وہاں لے جاسکتا ہے۔ لیکن اس آپسی لڑائی کا سیاحت یا سیاحوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ آپ کے لیے ان سب کی نظروں اور رویوں میں احترام ملے گا۔ منزل سے کوئی چند کلومیٹر کا راستہ کچی مٹی کا تھا۔ یہاں اگر بارش ہوجائے تو گاڑی کے ٹائرز سلپ مارتے ہیں ۔ آخر کار ڈھائی گھنٹے کی مسافت طے کرکے ہم پہاڑ کے اونچے ترین مقام پر پہنچ چکے تھے۔ اس سے آگے گاڑی جانے کا راستہ موجود نہیں تھا ۔ گردن زرا زیادہ اوپر کرکے پہاڑ کی چوٹی پر برف نظر آرہی تھی ۔
لیکن ہم شہری لوگوں کا اتنی اونچائی پر چڑھنا ممکن نہیں تھا ۔ یہاں گھوڑے اور خچر دستیاب تھے جن پر آپ سوار ہوسکتے تھے۔ یہاں پر خیموں اور عارضی ٹھکانوں میں چند ایک دکانیں موجود تھی جہاں آپ کو کولڈرنک ، بسکٹ اور چائے دستیاب تھی۔ یہ ایک الگ ہی دنیا تھی۔ ہر اونچائی آپ کو ایک نئے مقام ، خوبصورتی اور دلکشی سے متعارف کروا رہی تھی ۔ جس جگہ رکتے تو لگتا تھا کہ اس سے زیادہ کیا خوبصورت ہوسکتا ہے لیکن جب مزید اوپر پہنچ جاتے تو حسین مناظر کی دید پہلے سے بڑھ چکی ہوتی ۔
پہاڑ کی چوٹی سے دوسرے پہاڑ ایسے نظر آرہے تھے جیسے یہ سب پہاڑ کسی رشتے میں پروئے ہوتے ہیں ۔ المصور کی صناعی اپنے عروج پر نظر آرہی تھی ۔ یہاں بارش شروع ہوگئی جس سے یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کیچڑ ہوجانے کی وجہ سے واپسی تاخیر کا شکار نہ ہوجائے ۔ یہاں ہم سے پہلے کچھ سیاح موجود تھے اور پھر یہاں دو گھنٹے کے قیام میں کافی گاڑیاں سیاحوں کو لے کر آرہی تھی ۔بارش کی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس ہورہا تھا۔ یہاں کے مناظر کی ہم سب نے دل کھول کر ویڈیوز اور تصاویر بنائیں۔
بچوں کا تو دل چاہ رہا تھا کہ یہان شام تک رکا جائے۔ وہ کبھی ایک طرف کو بھاگتے تو کبھی دوسری طرف ۔ پہاڑ کو نیچے سے دیکھنے اور اوپر جاکر دیکھنے میں کتنا فرق ہے یہاں آکر محسوس ہوا۔ ایک الگ دنیا جہاں بدصورتی کا لفظ دفن ہوچکا تھا۔ ہر سو بہار ،ہر سو خوشی ، چہکار اور شوخی نے سب کو اپنا اسیر کرلیا تھا۔ بارش رک چکی تھی اور ہم اب چائے ، بسکٹ اور بچے اپنی من پسند کولڈرنک کو انجوائے کررہے تھے.
ہم میاں بیوی اس منظر کو بسائے اپنی دنیا کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر رب العالمین کا شکر ادا کررہے تھے ۔ بچوں کی ٹہرنے کی ضد کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے لاجور بھائی کو گاڑی اسٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا۔ اترائی کا سفر تو ہمیشہ آسان بھی ہوتا ہے اور تیز بھی چاہے وہ پہاڑوں کا مادی سفر ہو یا روح کی تنزلی کا سفر۔ چڑھنا دشوار لیکن نتائج میں حسین تر اورڈھلوان تیز رفتار لیکن بتدریج حسین نظاروں سے دور کرتی ہوئی۔۔۔۔
سوا گھنٹہ اترنے میں لگا۔ دوپہر کے 2 بج چکے تھے۔ ہوٹل گئے تو سامان ریسپشن پر موجود تھا۔ سامان گاڑی میں رکھوایا ۔ لاجور بھائی سے الوداعی ملاقات کی ۔ ان کا شکریہ





Facebook Comments