- Islamabad
- 33.2°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے / پرویز ساحر
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے
حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت سے مر گئے
اِس دَور ِ بے لحــــــاظ میں جیـــنا عـــذاب ہے
ہیں خوش نصیب لوگـــ جو عزّت سے مر گئے
اِن حُکــم رانِ وقت پہ ' لعنت ' کے چار حرف
سارے عــوام اِن کی سیـــــاست سے مر گئے
تقسیــــم کر دیا گیــــــا ہم کو کچھ اِس طـــــرح
ہم ایکــــــ دوســــرے کی حماقت سے مر گئے
جــــو زندہ رہ گئے ہیں وہ کچھ بـــولتے نہیــں
ہم میں جو با ضمیـر تھے' کثرت سے مر گئے
اَجھّـــا ہُوا کہ مَــوت کو اَرزاں کِیـــــــا گیــــــا
اجھّــــا ہُوا کہ لوگـــــــــ سہُولت سے مر گئے
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اَحســـاس ہے اُنھیں
ہم ایسے ســادہ لَــوح کہ غُربت سے مر گئے
-
ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔
یہ خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور سے تھے اور مجھے بھی اس شہر ہفت زبان میں جنم لینے،ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں م...
-
ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس گیارہ بارہ سال کی عمر ، قدرے سانولے رنگ ، چار ساڑھے چار فٹ کے قد اور بھاری جسم کے ایک لڑکے نے چند سال پہلے اطلاعی گھنٹی بجائی اور دروازہ کھلتے ہی کہا " باجی ۔۔میرا نام ساگر ہے ۔۔۔مجھے اختر بھائی نے بھیجا ہے ۔۔اماں کو بلادیں ۔"
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments