- Islamabad
- 33.2°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے / پرویز ساحر
ہم دشتِ بے کــــنار میں وَحشت سے مَر گئے
حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت سے مر گئے
اِس دَور ِ بے لحــــــاظ میں جیـــنا عـــذاب ہے
ہیں خوش نصیب لوگـــ جو عزّت سے مر گئے
اِن حُکــم رانِ وقت پہ ' لعنت ' کے چار حرف
سارے عــوام اِن کی سیـــــاست سے مر گئے
تقسیــــم کر دیا گیــــــا ہم کو کچھ اِس طـــــرح
ہم ایکــــــ دوســــرے کی حماقت سے مر گئے
جــــو زندہ رہ گئے ہیں وہ کچھ بـــولتے نہیــں
ہم میں جو با ضمیـر تھے' کثرت سے مر گئے
اَجھّـــا ہُوا کہ مَــوت کو اَرزاں کِیـــــــا گیــــــا
اجھّــــا ہُوا کہ لوگـــــــــ سہُولت سے مر گئے
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ اَحســـاس ہے اُنھیں
ہم ایسے ســادہ لَــوح کہ غُربت سے مر گئے
-
شادی نے زندگی کے معمولات کو تھوڑا سا تبدیل تو کردیا تھا لیکن خدا وند کریم نے مجھ پر ایک عنایت ضرور کی تھی کہ اہلیہ اکنامکس میں ایم اے ہونے کے باوجود شعر و ادب سے زیادہ منسلک تھیں۔ اور یہ امر میرے لئے خوش کن تھا۔ شاید اس لئے بھی کہ اکثر شاعروں کی بیویاں عموما شاعری کو اپنا ر...
-
وہ رقاصہ ہے
مطربہ ہے
اور بلا کی حسین اور تند خو ہے
اسے نغموں میں اپنا جوبن ڈالنے کا
ہنر تو آگیا ہے لیکن
محبتوں سے دلوں کے شہر فتح کرنا
ابھی اس نے نہیں سیکھا
ہے شعر گوئی بھی اب اس کا تعارف
مگر وہ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments