تازہ ترین
یعقوب یاور کی ترجمہ نگاری / محمد اسفر آفاقی
ادب ایک کل وقتی عمل ہے جو مکمل وابستگی اور اخلاص کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ ادب کی کوئی بھی صنف ہو، تخلیق کار کی مکمل یکسوئی کے بنا کچھ ممکن نہیں۔ اور جب کسی ایسے تخلیق کار پہ بات ہو کہ جو بیک وقت کئی اصنافِ ادب میں خدمات سرانجام دے رہا ہو تو حیرت اور مسرت کے ملے جلے جذبات کا اظہار ہونا یقینی ہے۔ یعقوب یاور ایک ایسے ہی تخلیق کار ہیں کہ جن کی ادبی جہات کو دیکھ کے حیرت ہوتی ہے کہ ایک انسان بیک وقت اتنے کاموں سے کیسے انصاف کر پاتا ہے اور خوشی بھی ہوتی ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جنھوں نے اردو ادب کو اپنی شبانہ روز محنت سے وسعت دے رکھی ہے۔ یعقوب یاور پیشہ کے اعتبار سے مدرس ہیں۔ بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی میں شعبہ اردو کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ شاعری، ناول نگاری، تنقید و تحقیق اور ترجمہ نگاری میں ان نے معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے کثرت سے کام کیا ہے۔ اس مضمون میں یعقوب یاور کی ترجمہ نگاری کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ترجمہ نگاری ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس میں نازکی اور حساسیت کا پہلو بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مترجم کے لیے یہ کام بیک وقت تخلیقی بھی ہوتا ہے اور تنقیدی بھی۔ ایک زبان سے دوسری زبان میں صرف مواد کی منتقلی ہی ترجمہ نہیں بلکہ مواد کی تخلیقی روح کا مکمل انتقال بھی ناگزیر ہوتا ہے جس کے لیے مترجم کے ہاں تخلیقی بصیرت کا ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’ارسطور سے ایلیٹ تک‘ کے پیش لفظ میں مختصر الفاظ میں جامعیت کے ساتھ ترجمہ نگاری اور مترجم کی ذمہ داری اور محدودیت کو بیان کیا ہے:
”ترجمے کا کام یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ اس میں مترجم، مصنف کی شخصیت، فکر اور اسلوب سے بندھا ہوتا ہے۔ ایک طرف اس زبان کا کلچر، جس کا ترجمہ کیا جا رہا ہے، اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور دوسری طرف اس زبان کا کلچر، جس میں ترجمہ کیا جا رہا ہے، اسے اپنی طرف کھنچتا ہے۔ مترجم کو دونوں کا وفادار رہنا پڑتا ہے۔ یہ دوئی خود مترجم کی شخصیت کو توڑ دیتی ہے لیکن یہ تو ہر مترجم کا مقدر ہے۔ اس دوئی سے، اسلوب کی سطح پر، خصوصیت کے ساتھ اس زبان کو فائدہ پہنچتا ہے جس میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔“۱؎
دیگر زبانوں سے اردو میں ادب کی منتقلی کا سلسلہ مغلیہ حکومت کے آخری دور میں ملتا ہے۔ برطانوی راج کے دوران اس صنف پہ باقاعدہ منظم کام شروع ہوا۔ ڈاکٹر احمد امتیاز لکھتے ہیں:
”۰۳۹۱ء کے بعد دوسری زبانوں سے ترجمے شروع ہوئے اور اس دور کے تقریباً تمام ادیبوں نے فرانسیسی، روسی، ترکی، اطالوی، چینی اور امریکی ادب کے شاہکاروں کو اردو زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اس دور میں ترجمہ بطور فن اپنی جڑیں مضبوط کر چکا تھا“۔۲؎
یعقوب یاور کے تراجم کا مطالعہ یہ احساس شدت سے دلاتا ہے کہ انھوں نے ان connecting points کو بڑے اچھے سے سمجھا ہے جو دو زبانوں اور تہذیبوں کے بیچ پل کا کرادر ادا کرتے ہیں۔ دونوں جانب وفاداری نبھانے کے لیے کسی ایسے مرکز کی ضرورت ہوتی ہے جو مترجم کے لیے توازن کا کام دے۔ اس کی عملی صورت ہینرے شاریے کی خود نوشت پاپیلاں ۳؎ میں دیکھنے کو ملتی ہے جو اپنی اولین صورت میں فرانسیسی زبان میں ملتا ہے لیکن یعقوب یاور نے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ اور تحریر کو اپنے تمام تر لوازمات اور ماحول کے ساتھ یوں اردو میں ڈھالا ہے کہ قاری کو کسی صورت یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ کتاب اصل صورت میں کسی اور زبان میں لکھی گئی ہے۔ عدالت کا منظر ہو یا قیدِ تنہائی، گیانا کا سفر ہو یا جارج ٹاون کے شب و روز، قید سے فرار کی کوششیں اور سمندر کا سامنا، ہر منظر کو اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ ایسے اردو زبان میں منتقل کیا گیا ہے کہ رتی برابر بھی غیریت کا احساس نہیں ہوتا۔ پاپیلاں کا ماحول تشکیل دیتے وقت اردو زبان و بیان کا بھرپور استعمال یعقوب یاور کی کامیاب ترجمہ نگاری کی گواہی دیتا ہے۔ تحریر کا ایسا ماحول جو قاری کو اپنائیت کا احساس دلائے، ترجمہ کی کامیابی کا اعلان کرتا ہے۔
ہرمن ہیس کے ناول سدھارتھ ۴؎ کا ترجمہ اس حوالے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اس میں کہانی کے کردار، منظرنامہ، ماحول اور تمام تر جزئیات ہندوستانی تہذیب سے ہی نتھی ہیں لیکن لکھنے والا ہندوستانی نہیں۔ یعقوب یاور نے کتاب کے ابتدائی صفحات میں لوگانو کی بین الاقوامی ادبی کانفرس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کالی داس نے اس ناول کے بارے کہا:
”یہ پہلی کتاب ہے جس میں مشرقی تہذیب کو حقیقی شکل میں اہلِ مغرب کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ تمام یورپی زبانوں میں ہونا چاہیے“۔۵؎
کالی داس ناگ ایک معتبر حوالہ ہیں۔ سدھارتھ کے بارے ان کی رائے سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ مشرق و مغرب کے درمیان ایسی تخلیقات پل کا کردار ادا کر تی ہیں۔ ایک دوسرے کے ماحول اور تہذیب کو سمجھنا اور محسوس کرنا ایسی تحریروں سے ہی ممکن ہے۔ یعقوب یاور نے جہاں پورے تخلیقی وفور کے ساتھ سدھارتھ کا ترجمہ اردو قارئین کو پہنچایا ہے وہیں وہ یہ پہلو بھی نمایاں کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ کہ ایک مغربی لکھاری مشرق کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے۔ مانوسیت اور اجنبیت کے دائرے کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں یا محدود ہیں۔ خود کتاب میں انھوں نے اس پہلو کے متعلق بات کرتے ہوئے لکھا ہے:
”اس ناول کو پڑھنے کے بعد مجھے خیال ہوا کہ اردو دنیا کو بھی مشرقی تہذیب کے بارے میں ایک مغربی مفکر کے نظریات سے واقف ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے پیش نظر میں نے اس ناول کا ترجمہ پیش کرنے کی جرأت کی۔“۶؎
کوئی شخص یہ تصور کر سکتا ہے کہ ایک ایسے ناول کا ترجمہ سہل ہو جس کا خمیر مترجم کی دھرتی سے ہی اٹھایا گیا ہو۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے کیونکہ لکھاری کا ایک یکسر مختلف تہذیب سے ہونا ہی مترجم کے لیے سب سے بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ کسی خیال یا منظر کی ترجمانی میں یہ پہلو مدنظر رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اس مشرقی ماحول کے بیان میں ایک مغربی ذہن کس کیفیت سے گزرا ہو گا اور بین السطور وہ کیا بیان کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے یعقوب یاور کامیاب رہے ہیں کہ انھوں نے ناول نگار کی ذہنی کیفیت کا ادراک کرتے ہوئے ترجمے کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ شان الحق حقی کے بقول:
”ترجمے کی غایت اگر علمی و افادی کے بالمقابل ادبی و تخلیقی ہو تو اس کے لیے پہلی شرط وجدانی تحریک ہے، دراصل یہ تخلیق سے زیادہ دشوار عمل ہے۔ تخلیق میں تو فکر آزاد ہوتا ہے اور ترجمے کی صورت میں اصل کے ساتھ رشتہ بنا۔ بعض ترجمے اس لیے کامیاب نہیں ہوتے کہ وہ علمی و ادبی غایت کو غلط ملط کر دیتے ہیں، ذہن کو تخلیق کی بجائے ترجمانی پر لگاتے ہیں۔“۷؎
ہمیں یعقوب یاور کے ہاں ترجمہ میں وہ تخلیقی قوت دیکھنے کو ملتی ہے جس کے بارے میں شان الحق حقی نے اشارہ کیا ہے۔ کوئی سا بھی ناول لے لیں۔ خواہ کین فولیٹ کے The man from St. Petersburgاور Lie down with Lionsہوں کہ جن کے تراجم ’رقصِ اجل‘ اور ’درہ خیبر کے اس پار‘ کے نام سے ہوئے یا اگاتھا کرسٹی کے ناولز Sad Cypress, Death on the Nile, Sleeping murder اور Christmasجو ’کمند ہوا‘، ’زہراب نیل‘، ’طاقِ نسیاں‘ اور ’شب گزیدہ‘ کے عنوانات سے اردو میں منتقل ہوئے۔ ماریو پوژا کا گاڈ فادر (اقلیم اسود)، بریس پاسترناک کا ’ڈاکٹر ژواگو اور ہینرک ابسن کا A Doll's House (پتلی گھر) بھی یعقوب یاور کے قلم سے اردو میں منتقل ہوئے۔ یعقوب یاور اپنے تمام تراجم میں تخلیقی جوہر کے ساتھ ابھرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اصل کہانی کے بدیسی ماحول اور اردو بولنے والوں کے درمیان ہم آہنگی کا راستہ ہموار کرتے نظر آٹے ہیں۔ اور تراجم کے دوران تہذیبوں کے فرق اور ماحول کو اختلافات سے ایسے نبرد آزما ہوتے ہیں کہ کٹھن مرحلے بھی آسان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کے مطابق:
”افسانوی ادب کے ترجموں میں ترجمہ صرف لفظ کا نہیں ہوتا۔ جملوں کی ساخت اور آہنگ نیز اسلوب کی نیت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور اسے بھی اپنی زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ آخری اہم بات یہ کہ افسانے یا ناول کی تہذیبی فضا کے پیش نظر ایسی لفظیات سے کام لینا پڑتا ہے جو ترجموں میں پوری فضا کو منتقل کر سکے۔“۸؎
یعقوب یاور جب اردو دنیا کو دیگر تہذیبوں میں جنم لینے والی کہانیاں سے روشناس کرواتے ہیں تو صرف لفظی و معنوی ترجمانی تک محدود نہیں رہتے بلکہ تحریر کو اپنے تمام تر تہذیبی و ثقافتی ماحول کے ساتھ اردو کا قالب دیتے ہیں اور ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جس میں غیریت کا موسا احتمال بھی نہیں رہتا۔ ان کے تراجم جہاں ان کی زبان و بیان اور علمی و ادبی قابلیت کا اظہار کرتے ہیں وہیں تہذیبِ عالم پہ ان کی گہری نظر کا بھی اظہاریہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح یعقوب یاور نے اردو ادب اور بین الاقوامی ادب کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے اس نے ایک طرف جہاں ہمارے ادب کو وسعت دی ہے وہیں مشرق و مغرب کے درمیان موجود فاصلوں کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
حوالہ جات:
۱۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، ارسطو سے ایلیٹ تک، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،، ۷۷۹۱ء
۲۔ ڈاکٹر احمد امتیاز، اردو میں ا دبی ترجمے کی روایت، اردو ریسرچ جرنل، جلد ۱۱، شمارہ ۱
۳۔ ہینرے شاریے/مترجم یعقوب یاور، پاپیلاں، بھارت آفسیٹ، دہلی
۴۔ ہرمن ہیس/ مترجم یعقوب یاور، سدھارتھ، نسیم بک ڈپو، لکھنؤ، ۲۸۹۱ء
۵۔ ایضاً
۶۔ ایضاً
۷۔ شان الحق حقی، ادبی تراجم کے مسائل، روداد سیمینار ”اردو زبان میں ترجمے کے مسائل“، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۶۸۹۱ء، ص ۹۱۲
۸۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی، افسانوی ادب کے تراجم…… مسائل اور مشکلات، روداد سیمینار ”اردو زبان میں ترجمے کے مسائل“، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۶۸۹۱ء، ص ۹۹۱





Facebook Comments