- Islamabad
- 35.5°C
- Today ( Sunday, 26 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضلع شہید بینظیر آباد کا دورہ کیا اور انتظامیہ کے ساتھ اجلاس میں مسائل اور حفاظتی اقدامات پر بات چیت کی۔
-
حماس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ حالیہ قرارداد جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتی ہے، فلسطینی عوام کی سیاسی اور انسانی ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔ اس سے قبل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کے لیے امریکہ کی تجویز کردہ ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments