- Islamabad
- 26°C
- Today ( Friday, 24 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
ادب ایک کل وقتی عمل ہے جو مکمل وابستگی اور اخلاص کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ ادب کی کوئی بھی صنف ہو، تخلیق کار کی مکمل یکسوئی کے بنا کچھ ممکن نہیں۔ اور جب کسی ایسے تخلیق کار پہ بات ہو کہ جو بیک وقت کئی اصنافِ ادب میں خدمات سرانجام دے رہا ہو تو حیرت اور مسرت کے ملے جلے جذبات کا اظہا...
-
جرمنی نے حصولِ شہریت کے قوانین میں نرمی اور دوہری شہریت رکھنے پر پابندی ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔
اس قانون کے بعد لوگ اس وقت چھ یا آٹھ سال کے بجائے تین یا پانچ سال کے بعد "خصوصی انضمام کی کامیابیوں" کی صورت میں شہریت ح...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments