- Islamabad
- 22.7°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
سائبر سیکیورٹی محققین نے انتباہ کیا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے 26 ارب سے زائد کے نجی ریکارڈز کے لیک کو تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا لیک قرار دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس لیک میں ٹوئٹر، ڈراپ بکس اور لنکڈ ان سمیت کئی دیگر ویب سائٹ کی حساس معلومات شامل ہیں۔
اس لیک کا...
-
پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کو آئے روز انٹرنیٹ کی بندش کے واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور خاص کر موجودہ سیاسی حالات میں اس بندش کے اثرات زیادہ نمایاں ہو کے سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے نگراں حکومت کبھی تکنینکی مسائل کی بات کرتی ہے اور ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments