- Islamabad
- 29.4°C
- Today ( Saturday, 25 April 2026)
26ویں ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسٹس مظہر
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ انہوں نے بنچز اختیارات کیس میں آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ریگولر بنچ کو آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس مظہر نے لکھا کہ 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اس کے مندرجات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ اس میں تبدیلی نہیں کرتی، تمام معاملات اسی کے تحت چلیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی بنچ کو کرنی چاہیے اور ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس لیے جا چکے ہیں، جس کے بعد کی تمام کارروائی غیر مؤثر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے بھی کالعدم قرار دیے تھے۔
-
وزارت خزانہ نے انتخابات سے ایک روز قبل نئے مالی سال 2024-25ء کے وفاقی بجٹ کا شیڈول جاری کر دیا۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے، تمام بجٹ دستاویزات کو مئی 2024ء کے آخر تک ختمی شکل دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
-
کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 6 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث انٹربینک میں ڈالر 279 روپے 28 پیسے پر بند ہوا۔
گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالرایک پیسہ مہنگا ہوکر 279 روپے34 پیسے پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ ...
Get Newsletter
Subscribe to our newsletter to get latest news, popular news and exclusive updates.





Facebook Comments